Express News:
2026-06-03@01:21:58 GMT

پاکستان کے تمام شہر خطرناک بحران کی زد میں…

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

پاکستان کے بڑے شہرکراچی، لاہور،فیصل آباد، آسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور بڑھتی ہوئی آلودگی، بے ہنگم ٹریفک اور شہری منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے ایک خاموش مگر خطرناک بحران سے گزر رہے ہیں۔

یہ بحران کسی ایک حکومت کا پیدا کردہ نہیں بلکہ برسوں کی غفلت،کمزور منصوبہ بندی، ناقص گورننس اور بڑھتی ہوئی آبادی کا شاہ خسانہ ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے شہروں کا بنیادی انفرااسٹرکچر وہی ہے، لیکن آبادی تین سے چار گنا بڑھ جانے کے باوجود اس جانب کوئی توجہ نہ دی۔

نتیجہ یہ کہ ان شہروں کے باسی روزانہ ٹریفک جام، ماحولیاتی آلودگی، پانی کی قلت،اور تجاوزات اور بے ہنگم کچی آبادیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہو چکا ہے۔

سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی دھند اور اسموگ چھا جاتی ہے،جو آنکھوں کو جلاتی، گلے میں خراش پیدا کرتی اور سانس روکنے لگتی ہے۔کراچی میں ساحل سمندر سے لے کر صدر تک کچرے کے ڈھیر ایک الگ کہانی سناتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں کوڑے کی درجہ بندی، ری سائیکلنگ اور سولڈ ویسٹ مینجمنٹ معمول کی بات ہے، لیکن ہمارے ہاں اب تک کوڑا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ شہری آلودگی آج ایک صحت کا مسئلہ نہیں رہا، یہ معاشی نقصان، صحت کے بجٹ میں اضافہ اور عالمی امیج کا مسئلہ بھی بن گیا ہے۔

پاکستانی شہروں میں ٹریفک جام اب ایک روزمرہ حقیقت بن چکا ہے۔ لاہور میں سگنل فری کوریڈورز کی منصوبہ بندی نے وقتی سکون دیا، مگر ٹریفک بڑھنے کے ساتھ مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔ کراچی میں صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔

جہاں ایک طرف انڈر پاس اور فلائی اوورز بنائے گئے، تو دوسری طرف بغیر منصوبہ بندی کے کمرشلائزیشن نے سڑکوں کی گنجائش ختم کر دی۔ اہم حقیقت یہ ہے کہ ٹریفک کے مسائل کا حل کبھی زیادہ سڑکیں بنا کر ممکن نہیں ہوتا، بلکہ بہتر ٹرانسپورٹ سسٹم، جدید ٹریفک مینجمنٹ، ماس ٹرانزٹ، پارکنگ پالیسی اور پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب سہولیات ہی دیرپا حل فراہم کرتی ہیں۔

لیکن ہمارے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ روزانہ ناکام ہو رہی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر فرد اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی پر نکلنے کے لیے مجبور ہے۔پاکستان کے شہروں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بغیر کسی مرکزی وژن کے پھیل رہے ہیں۔ شہروں میں ہاوسنگ اور بلڈنگ لاز اور بائی لاز پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

لاہور کا ماسٹر پلان 2050 ہو یا کراچی کا نیا ڈویلپمنٹ پلان دونوں صرف کاغذوں میں محدود ہیں۔ طاقتور گروہ، لینڈ مافیا، کمزور بلدیاتی نظام، اور مسلسل سیاسی مداخلت نے پلاننگ کو بے اثر کر دیا ہے۔ جب تک مقامی گورنمنٹ کو اختیارات اور مالی خودمختاری نہیں ملتی، شہر کبھی صحیح معنوں میں ترقی نہیں کر سکتے۔

پاکستانی شہروں میں پینے اور گھریلو استعمال کے پانی کا بحران بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لاہور میں زیرِ زمین پانی خطرناک حد تک نیچے جا چکا ہے، اور کراچی میں پانی کی تقسیم بے حد غیر منصفانہ ہے۔

پینے کا صاف پانی اب ایک نایاب نعمت بنتا جا رہا ہے۔اسی طرح گرین ایریاز مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ لاہور کے باغات، درخت، اور پارکس ایک ایک کر کے کمرشل پلازوں کے سامنے قربان کر دیے گئے ہیں ۔

اسلام آباد جیسے خوبصورت شہر میں بھی غیر قانونی تعمیرات کا سیلاب آہستہ آہستہ قدرتی حسن کو داغدار کر رہا ہے۔ بڑے شہروں میں عام آدمی اور سرکاری ملازمین کو مناسب رہائش ملنا بھی جان جوکھوں کا کام ہے۔

سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا ان مسئلوں کا کوئی حل ہے۔جی اس کا حل تو ہے لیکن اس کے لیے، سیاسی عزم،نیک نیتی اور تسلسل ضروری ہے ۔سچ بات تو یہ ہے کہ اس منزل کو حاصل کرنے کے لیے ایک قابل عمل شہری منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کے لیے مقامی حکومتوں کا کلی اختیار اور ان مقامی حکومتوں کی کارکردگی کا موثر جائزہ ضروری ہے۔

تمام بڑے شہروں میں جدید پبلک ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ سسٹم کا آغاز ہونا چاہیے۔ ری سائیکلنگ، ویسٹ مینجمنٹ، اور فضائی آلودگی کے لیے سخت قوانین اور ان پر عمل درآمد لازم ہے۔گرین ایریاز کی بحالی اور نئے شجر کاری زونز بنائے جانے چاہیے۔پانی کے متبادل ذرایع اور واٹر ری چارجنگ سسٹم کی ترویج اور فروغ ضروری ہیں۔

دنیا کے بڑے شہر،استنبول، شنگھائی، دبئی اور اسی طرح کے مسائل سے گزرے ہیں لیکن انھوں نے بہتر پلاننگ اور سخت قوانین پر عمل کر کے آج ان شہروں کو ایک رول ماڈل بنا دیا ہے۔

پاکستان بھی یہ کر سکتا ہے، بشرطیکہ نیت، پیشہ ورانہ مہارت اور مستقل مزاجی دکھائی جائے۔ پاکستان کے شہروں کا بحران صرف ٹریفک یا آلودگی کا مسئلہ نہیں، یہ ایک بڑے قومی چیلنج کی علامت ہے۔

اگر آج ہم نے شہری منصوبہ بندی کو سنجیدگی سے نہ لیا، تو آنے والے دس سالوں میں پاکستان کا کوئی بھی بڑا شہر رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔یہ بحران محض شہری بحران نہیں بلکہ اب یہ قومی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔اور اس کا حل صرف ایک مضبوط اور دور اندیش حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے یہ ہے کہ بڑے شہر ا لودگی کے لیے اور اس چکا ہے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا