Express News:
2026-07-24@04:26:47 GMT

پاکستان کے تمام شہر خطرناک بحران کی زد میں…

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

پاکستان کے بڑے شہرکراچی، لاہور،فیصل آباد، آسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور بڑھتی ہوئی آلودگی، بے ہنگم ٹریفک اور شہری منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے ایک خاموش مگر خطرناک بحران سے گزر رہے ہیں۔

یہ بحران کسی ایک حکومت کا پیدا کردہ نہیں بلکہ برسوں کی غفلت،کمزور منصوبہ بندی، ناقص گورننس اور بڑھتی ہوئی آبادی کا شاہ خسانہ ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے شہروں کا بنیادی انفرااسٹرکچر وہی ہے، لیکن آبادی تین سے چار گنا بڑھ جانے کے باوجود اس جانب کوئی توجہ نہ دی۔

نتیجہ یہ کہ ان شہروں کے باسی روزانہ ٹریفک جام، ماحولیاتی آلودگی، پانی کی قلت،اور تجاوزات اور بے ہنگم کچی آبادیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہو چکا ہے۔

سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی دھند اور اسموگ چھا جاتی ہے،جو آنکھوں کو جلاتی، گلے میں خراش پیدا کرتی اور سانس روکنے لگتی ہے۔کراچی میں ساحل سمندر سے لے کر صدر تک کچرے کے ڈھیر ایک الگ کہانی سناتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں کوڑے کی درجہ بندی، ری سائیکلنگ اور سولڈ ویسٹ مینجمنٹ معمول کی بات ہے، لیکن ہمارے ہاں اب تک کوڑا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ شہری آلودگی آج ایک صحت کا مسئلہ نہیں رہا، یہ معاشی نقصان، صحت کے بجٹ میں اضافہ اور عالمی امیج کا مسئلہ بھی بن گیا ہے۔

پاکستانی شہروں میں ٹریفک جام اب ایک روزمرہ حقیقت بن چکا ہے۔ لاہور میں سگنل فری کوریڈورز کی منصوبہ بندی نے وقتی سکون دیا، مگر ٹریفک بڑھنے کے ساتھ مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔ کراچی میں صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔

جہاں ایک طرف انڈر پاس اور فلائی اوورز بنائے گئے، تو دوسری طرف بغیر منصوبہ بندی کے کمرشلائزیشن نے سڑکوں کی گنجائش ختم کر دی۔ اہم حقیقت یہ ہے کہ ٹریفک کے مسائل کا حل کبھی زیادہ سڑکیں بنا کر ممکن نہیں ہوتا، بلکہ بہتر ٹرانسپورٹ سسٹم، جدید ٹریفک مینجمنٹ، ماس ٹرانزٹ، پارکنگ پالیسی اور پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب سہولیات ہی دیرپا حل فراہم کرتی ہیں۔

لیکن ہمارے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ روزانہ ناکام ہو رہی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر فرد اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی پر نکلنے کے لیے مجبور ہے۔پاکستان کے شہروں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بغیر کسی مرکزی وژن کے پھیل رہے ہیں۔ شہروں میں ہاوسنگ اور بلڈنگ لاز اور بائی لاز پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

لاہور کا ماسٹر پلان 2050 ہو یا کراچی کا نیا ڈویلپمنٹ پلان دونوں صرف کاغذوں میں محدود ہیں۔ طاقتور گروہ، لینڈ مافیا، کمزور بلدیاتی نظام، اور مسلسل سیاسی مداخلت نے پلاننگ کو بے اثر کر دیا ہے۔ جب تک مقامی گورنمنٹ کو اختیارات اور مالی خودمختاری نہیں ملتی، شہر کبھی صحیح معنوں میں ترقی نہیں کر سکتے۔

پاکستانی شہروں میں پینے اور گھریلو استعمال کے پانی کا بحران بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لاہور میں زیرِ زمین پانی خطرناک حد تک نیچے جا چکا ہے، اور کراچی میں پانی کی تقسیم بے حد غیر منصفانہ ہے۔

پینے کا صاف پانی اب ایک نایاب نعمت بنتا جا رہا ہے۔اسی طرح گرین ایریاز مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ لاہور کے باغات، درخت، اور پارکس ایک ایک کر کے کمرشل پلازوں کے سامنے قربان کر دیے گئے ہیں ۔

اسلام آباد جیسے خوبصورت شہر میں بھی غیر قانونی تعمیرات کا سیلاب آہستہ آہستہ قدرتی حسن کو داغدار کر رہا ہے۔ بڑے شہروں میں عام آدمی اور سرکاری ملازمین کو مناسب رہائش ملنا بھی جان جوکھوں کا کام ہے۔

سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا ان مسئلوں کا کوئی حل ہے۔جی اس کا حل تو ہے لیکن اس کے لیے، سیاسی عزم،نیک نیتی اور تسلسل ضروری ہے ۔سچ بات تو یہ ہے کہ اس منزل کو حاصل کرنے کے لیے ایک قابل عمل شہری منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کے لیے مقامی حکومتوں کا کلی اختیار اور ان مقامی حکومتوں کی کارکردگی کا موثر جائزہ ضروری ہے۔

تمام بڑے شہروں میں جدید پبلک ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ سسٹم کا آغاز ہونا چاہیے۔ ری سائیکلنگ، ویسٹ مینجمنٹ، اور فضائی آلودگی کے لیے سخت قوانین اور ان پر عمل درآمد لازم ہے۔گرین ایریاز کی بحالی اور نئے شجر کاری زونز بنائے جانے چاہیے۔پانی کے متبادل ذرایع اور واٹر ری چارجنگ سسٹم کی ترویج اور فروغ ضروری ہیں۔

دنیا کے بڑے شہر،استنبول، شنگھائی، دبئی اور اسی طرح کے مسائل سے گزرے ہیں لیکن انھوں نے بہتر پلاننگ اور سخت قوانین پر عمل کر کے آج ان شہروں کو ایک رول ماڈل بنا دیا ہے۔

پاکستان بھی یہ کر سکتا ہے، بشرطیکہ نیت، پیشہ ورانہ مہارت اور مستقل مزاجی دکھائی جائے۔ پاکستان کے شہروں کا بحران صرف ٹریفک یا آلودگی کا مسئلہ نہیں، یہ ایک بڑے قومی چیلنج کی علامت ہے۔

اگر آج ہم نے شہری منصوبہ بندی کو سنجیدگی سے نہ لیا، تو آنے والے دس سالوں میں پاکستان کا کوئی بھی بڑا شہر رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔یہ بحران محض شہری بحران نہیں بلکہ اب یہ قومی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔اور اس کا حل صرف ایک مضبوط اور دور اندیش حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے یہ ہے کہ بڑے شہر ا لودگی کے لیے اور اس چکا ہے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش