Express News:
2025-11-29@21:10:31 GMT

پاکستان کے تمام شہر خطرناک بحران کی زد میں…

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

پاکستان کے بڑے شہرکراچی، لاہور،فیصل آباد، آسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور بڑھتی ہوئی آلودگی، بے ہنگم ٹریفک اور شہری منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے ایک خاموش مگر خطرناک بحران سے گزر رہے ہیں۔

یہ بحران کسی ایک حکومت کا پیدا کردہ نہیں بلکہ برسوں کی غفلت،کمزور منصوبہ بندی، ناقص گورننس اور بڑھتی ہوئی آبادی کا شاہ خسانہ ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے شہروں کا بنیادی انفرااسٹرکچر وہی ہے، لیکن آبادی تین سے چار گنا بڑھ جانے کے باوجود اس جانب کوئی توجہ نہ دی۔

نتیجہ یہ کہ ان شہروں کے باسی روزانہ ٹریفک جام، ماحولیاتی آلودگی، پانی کی قلت،اور تجاوزات اور بے ہنگم کچی آبادیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہو چکا ہے۔

سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی دھند اور اسموگ چھا جاتی ہے،جو آنکھوں کو جلاتی، گلے میں خراش پیدا کرتی اور سانس روکنے لگتی ہے۔کراچی میں ساحل سمندر سے لے کر صدر تک کچرے کے ڈھیر ایک الگ کہانی سناتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں کوڑے کی درجہ بندی، ری سائیکلنگ اور سولڈ ویسٹ مینجمنٹ معمول کی بات ہے، لیکن ہمارے ہاں اب تک کوڑا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ شہری آلودگی آج ایک صحت کا مسئلہ نہیں رہا، یہ معاشی نقصان، صحت کے بجٹ میں اضافہ اور عالمی امیج کا مسئلہ بھی بن گیا ہے۔

پاکستانی شہروں میں ٹریفک جام اب ایک روزمرہ حقیقت بن چکا ہے۔ لاہور میں سگنل فری کوریڈورز کی منصوبہ بندی نے وقتی سکون دیا، مگر ٹریفک بڑھنے کے ساتھ مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔ کراچی میں صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔

جہاں ایک طرف انڈر پاس اور فلائی اوورز بنائے گئے، تو دوسری طرف بغیر منصوبہ بندی کے کمرشلائزیشن نے سڑکوں کی گنجائش ختم کر دی۔ اہم حقیقت یہ ہے کہ ٹریفک کے مسائل کا حل کبھی زیادہ سڑکیں بنا کر ممکن نہیں ہوتا، بلکہ بہتر ٹرانسپورٹ سسٹم، جدید ٹریفک مینجمنٹ، ماس ٹرانزٹ، پارکنگ پالیسی اور پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب سہولیات ہی دیرپا حل فراہم کرتی ہیں۔

لیکن ہمارے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ روزانہ ناکام ہو رہی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر فرد اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی پر نکلنے کے لیے مجبور ہے۔پاکستان کے شہروں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بغیر کسی مرکزی وژن کے پھیل رہے ہیں۔ شہروں میں ہاوسنگ اور بلڈنگ لاز اور بائی لاز پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

لاہور کا ماسٹر پلان 2050 ہو یا کراچی کا نیا ڈویلپمنٹ پلان دونوں صرف کاغذوں میں محدود ہیں۔ طاقتور گروہ، لینڈ مافیا، کمزور بلدیاتی نظام، اور مسلسل سیاسی مداخلت نے پلاننگ کو بے اثر کر دیا ہے۔ جب تک مقامی گورنمنٹ کو اختیارات اور مالی خودمختاری نہیں ملتی، شہر کبھی صحیح معنوں میں ترقی نہیں کر سکتے۔

پاکستانی شہروں میں پینے اور گھریلو استعمال کے پانی کا بحران بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لاہور میں زیرِ زمین پانی خطرناک حد تک نیچے جا چکا ہے، اور کراچی میں پانی کی تقسیم بے حد غیر منصفانہ ہے۔

پینے کا صاف پانی اب ایک نایاب نعمت بنتا جا رہا ہے۔اسی طرح گرین ایریاز مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ لاہور کے باغات، درخت، اور پارکس ایک ایک کر کے کمرشل پلازوں کے سامنے قربان کر دیے گئے ہیں ۔

اسلام آباد جیسے خوبصورت شہر میں بھی غیر قانونی تعمیرات کا سیلاب آہستہ آہستہ قدرتی حسن کو داغدار کر رہا ہے۔ بڑے شہروں میں عام آدمی اور سرکاری ملازمین کو مناسب رہائش ملنا بھی جان جوکھوں کا کام ہے۔

سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا ان مسئلوں کا کوئی حل ہے۔جی اس کا حل تو ہے لیکن اس کے لیے، سیاسی عزم،نیک نیتی اور تسلسل ضروری ہے ۔سچ بات تو یہ ہے کہ اس منزل کو حاصل کرنے کے لیے ایک قابل عمل شہری منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کے لیے مقامی حکومتوں کا کلی اختیار اور ان مقامی حکومتوں کی کارکردگی کا موثر جائزہ ضروری ہے۔

تمام بڑے شہروں میں جدید پبلک ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ سسٹم کا آغاز ہونا چاہیے۔ ری سائیکلنگ، ویسٹ مینجمنٹ، اور فضائی آلودگی کے لیے سخت قوانین اور ان پر عمل درآمد لازم ہے۔گرین ایریاز کی بحالی اور نئے شجر کاری زونز بنائے جانے چاہیے۔پانی کے متبادل ذرایع اور واٹر ری چارجنگ سسٹم کی ترویج اور فروغ ضروری ہیں۔

دنیا کے بڑے شہر،استنبول، شنگھائی، دبئی اور اسی طرح کے مسائل سے گزرے ہیں لیکن انھوں نے بہتر پلاننگ اور سخت قوانین پر عمل کر کے آج ان شہروں کو ایک رول ماڈل بنا دیا ہے۔

پاکستان بھی یہ کر سکتا ہے، بشرطیکہ نیت، پیشہ ورانہ مہارت اور مستقل مزاجی دکھائی جائے۔ پاکستان کے شہروں کا بحران صرف ٹریفک یا آلودگی کا مسئلہ نہیں، یہ ایک بڑے قومی چیلنج کی علامت ہے۔

اگر آج ہم نے شہری منصوبہ بندی کو سنجیدگی سے نہ لیا، تو آنے والے دس سالوں میں پاکستان کا کوئی بھی بڑا شہر رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔یہ بحران محض شہری بحران نہیں بلکہ اب یہ قومی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔اور اس کا حل صرف ایک مضبوط اور دور اندیش حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے یہ ہے کہ بڑے شہر ا لودگی کے لیے اور اس چکا ہے

پڑھیں:

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود نسل کشی جاری ہے: ایمنسٹی انٹرنیشنل

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے باوجود نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ دنیا کو بےوقوف نہیں بنانا چاہیے، اسرائیل کی نسل کشی ختم نہیں ہوئی، اسرائیلی فورسز نے صرف غزہ پر حملوں کی شدت کم کی ہے، امداد کی محدود فراہمی جاری ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق جنگ بندی سے غلط تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ غزہ میں زندگی معمول پر آ رہی ہے، غزہ کی صورتِ حال میں کوئی نمایاں بہتری نظر نہیں آ رہی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل غزہ میں اپنی ظالمانہ پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے 136 بچوں سمیت 374 فلسطینی شہید کیے۔ اسرائیل نے انسانی امداد اور بنیادی ضروریات تک رسائی محدود کی۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں گیس کا سٹاک مکمل ختم ہو گیا، بحران میں اضافہ
  • برفباری کے پیش نظر بابوسر ناران روڈ اگلے سیزن تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • اسلامی تحریک گلگت بلتستان میں کسی سطح پر کوئی اختلاف نہیں، علامہ شبیر میثمی
  • غزہ میں جنگ بندی کے باوجود نسل کشی جاری ہے: ایمنسٹی انٹرنیشنل
  • سوشل میڈیا پرعمران خان بارے فیک نیوز، افواہیں انتہائی خطرناک ہیں، دفترخارجہ
  • سوشل میڈیا پر سابق وزیراعظم کے حوالے سے فیک نیوز اور افواہیں انتہائی خطرناک ہیں: دفتر خارجہ
  • کراچی میں تو کمیرے لگا دیے ہیں، باقی شہروں میں کمیرے کیوں نہیں لگائے گئے، علی خورشیدی
  • دشمن کی نہ جنگ نہ امن کی خطرناک سازش
  • فرانس کی جیل سے خطرناک قیدی بیڈ شیٹس باندھ کر فلمی انداز میں فرار ہو گئے