پنجاب حکومت کا پیٹرول موٹر سائیکل اور رکشوں کی پیدوار بند کرنیکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(مانیٹر نگ ڈ یسک ) پنجاب حکومت نے پیٹرول پر چلنے والی موٹرسائیکل اور رکشے کی پروڈکشن پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت انسداد اسموگ کیلیے کابینہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں صوبہ پنجاب میں پیٹرول سے چلنے والے موٹر سائیکلوں کی پروڈکشن بھی بتدریج اور مرحلہ وار بند کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں سرکاری اداروں کیلیے صرف الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں اور الیکٹرک موٹر سائیکل ہی خریدی جائیں گی جب کہ گھروں کی سطح پر پانی سے گاڑیاں دھونے پر مکمل پابندی بھی عاید کردی گئی۔اجلاس میں پورے پنجاب میں جدید دنیا کی طرح رنگ دار کوڑے دان لگانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، اسی طرح پلاسٹک اور زہریلا دھواں پیدا کرنے والی اشیا جلانے پر سخت سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ شہریوں کی صحت و ماحول کو نقصان پہنچانے پر کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا