ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے میں استعمال موٹر سائیکل کہاں سے آئی؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے میں استعمال کی جانے والی موٹر سائیکل راولپنڈی سے چوری کی گئی تھی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زیر حراست کئی مشتبہ افراد سے تحقیقات جاری ہیں، موٹرسائیکل چوری کی ایف آئی آر متعلقہ تھانے میں درج تھی۔
پولیس کے مطابق حملے سے متعلق کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر میں خودکش حملے میں 3 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے تھے۔
سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق صدر روڈ کو ٹریفک کیلیے بند کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب دہشت گردوں کی شہر کی مختلف راستوں سے گزر کر فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز تک پہنچنے اور حملہ کرنے کی مکمل ویڈیو بھی تیار کرلی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق فوٹیجز مختلف مقامات پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل کی گئی ہیں، تینوں حملہ آور ایک موٹرسائیکل پر سوار تھے۔
.ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سوڈان میں اسپتال اور پرائمری اسکول پر حملہ؛ 66 بچوں سمیت 114 افراد جاں بحق
خانہ جنگی کے شکار سوڈان کے ایک اسپتال اور بچوں کے اسکول پر ہونے والے فضائی حملے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارۂ صحت نے تصدیق کی ہے کہ جس اسپتال کو نشانہ بنایا گیا اس میں سیکڑوں مریض داخل تھے اور یہ آخری فعال اسپتال تھا۔
حملے میں ایمرجنسی وارڈ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ ملبے میں طبی عملہ، مریض اور ان کے اہل خانہ دب گئے۔ زیادہ تر جنگ سے متاثرہ زخمی اسپتال میں داخل تھے۔
اسپتال کے قریب ہی ایک کنڈرگارٹن اسکول بھی تھا۔ وہ بھی اس حملے میں تباہ ہوگیا۔ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 114 ہوگئی جن میں 68 بچے بھی شامل ہیں۔
ڈبلیو ایچ او نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں اور اسکولوں پر حملے جنگی جرائم ہیں۔ صحت کا نظام پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے۔
اقوام متحدہ نے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جب کہ افریقی یونین نے فریقین پر زور دیا کہ شہریوں اور طبی مراکز کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
جنگ زدہ علاقوں میں متاثرین کی مدد کرنے والی امدادی تنظیموں نے محفوظ راستے کھولنے کی اپیل ہے تاکہ زخمیوں کو منتقل کیا جاسکے۔
یاد رہے کہ سوڈان میں گزشتہ دو برس سے فوج اور پیرا ملٹری فورس ریپڈ سپورٹ فورس کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔
ان جھڑپوں میں دارالحکومت خرطوم اور ڈارفر سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جنگ نے سوڈان کو افریقا کے بدترین انسانی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر لڑائی اسی شدت سے جاری رہی تو جلد ہی وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ ہے۔ بھوک اور قلتِ غذا میں اضافہ اور ہزاروں جانوں کو فوری طبی امداد نہ ملنے کا اندیشہ ہے۔