وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا اڈیالہ روڈ پر دھرنا جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
راولپنڈی:
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اڈیالہ روڈ پر دھرنا جاری ہے اور پولیس سے مذاکرات ناکام ہوئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دھرنا 8 گھنٹے سے زائد وقت سے جاری ہے جو انہوں نے عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر دے رکھا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ان کے نمائندوں کے جیل انتظامیہ اور پولیس سے مذاکرات جاری ہیں جو فیکٹری ناکے کے قریب نجی عمارت میں جاری ہیں۔
مذاکرات میں اسسٹنٹ سپرٹنڈنٹ جیل، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے سی ایس او، پولیس نمائندے اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے رکن مینا خان بھی شامل ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات میں ملاقات نہ کرانے پر تحریری وجہ بتانے مطالبہ کیا گیا ہے، عمران خان کی صحت سے متعلق بھی یقین دہانی کرانے کا مطالبہ شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت کسی پارٹی رہنما کی ملاقات کرانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
دھرنا جاری رکھیں گے، ترجمان خیبرپختونخوا حکومت
ترجمان خیبرپختونخوا حکومت شفیع جان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج آٹھویں مرتبہ وزیراعلی آئے ہیں، تاریخ تبدیل ہوچکی ہے، 27 کو آئے تھے اب 28 تاریخ ہوچکی ہے اور راولپنڈی میں ہمارا ایک ہی سادہ سے مطالبہ ہے جب تک بانی سے ملاقات نہیں کرائی جاتی ہم نہیں جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ کوئی غیرقانونی نہیں ہے، بانی ہر منگل کو اپنی فیملی اور جمعرات کو پارٹی رہنماؤں سے مل سکتے ہیں لیکن 27 اکتوبر سے ان کے ساتھ کسی کی ملاقات نہیں ہوئی۔
ترجمان نے کہا کہ انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹس دیکھ کر ہمیں بانی کی صحت پر شدید تحفظات ہیں، ہماری طرف سے 7 لوگوں کے نام تھے کسی ایک کی بھی بانی سے ملاقات کرائی جائے، ہم چاہتے ہیں وزیراعلیٰ کی اکیلے میں ملاقات کرائی جائے۔
شفیع جان نے کہا کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں ہمارے لیڈر کی صحت کیسی ہے، یہاں مزید لوگ آرہے ہیں اور قافلہ بڑھتا جائے گا ہم دھرنا جاری رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی کہا کہ
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔