ایران کے حکام نے ہفتہ کو ملک کے بڑے ڈیموں میں سے ایک، کارخہ ڈیم، میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی کے سبب بجلی کی پیداوار روک دی۔

ڈیم اور اس کے پاور پلانٹ کے سربراہ عامر محمودی نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ کارخہ ڈیم کے ذخیرے میں پانی کی کمی کی وجہ سے پاور پلانٹ کی یونٹس کو پیداوار کے عمل سے ہٹا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: شدید خشک سالی: رواں سال بارش نہ ہوئی تو تہران کو خالی کرانا پڑسکتا ہے، صدر مسعود پزشکیان

انہوں نے مزید کہا کہ بعد ازاں ڈیم کے نچلے والو سے پانی چھوڑا گیا تاکہ ڈاؤن اسٹریم رہائشیوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

محمودی نے بتایا کہ ڈیم کے پیچھے موجود ذخیرہ اس وقت تقریباً ایک ارب کیوبک میٹر پانی رکھتا ہے اور موجودہ پانی کی سطح 180 میٹر ہے، جو بجلی پیدا کرنے کے لیے قدرتی سطح سے 40 میٹر کم ہے۔

میڈیا کے مطابق، کارخہ ڈیم دنیا کے سب سے بڑے ارتھ ڈیموں میں سے ایک اور ایران و مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا ڈیم ہے۔ یہ کارخہ دریا پر واقع ہے اور شہر اندیمشک سے 22 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے: تاریخی خشک سالی، تہران میں پینے کے پانی کا ذخیرہ 2 ہفتوں میں ختم ہوجائے گا

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران کو اپنی ریکارڈ شدہ تاریخ کے سب سے شدید خشک سالی میں سے ایک کا سامنا ہے۔ ایرانی میڈیا نے گزشتہ ہفتوں میں رپورٹ کیا تھا کہ اس سال بارش کی مقدار طویل مدتی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 90 فیصد کم ہو گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران بجلی تہران خشک سالی ڈیم.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایران بجلی تہران خشک سالی ڈیم کارخہ ڈیم خشک سالی پانی کی

پڑھیں:

الیکٹرک وہیکل چارجنگ انفراسٹرکچر پالیسی پر عملدرآمد شروع

 

اسلام آباد: (نیوزڈیسک) الیکٹرک وہیکل چارجنگ انفراسٹرکچر کی پالیسی پر عملدرآمد شروع ہو گیا، وفاقی حکومت نے ای وی پالیسی سے متعلق تفصیلات سینیٹ میں پیش کر دیں۔

پاور ڈویژن کے مطابق پالیسی کے تحت 2 وزارتوں کو قواعد و ضوابط بنانے کا اختیار حاصل ہے، وزارت صنعت و پیداوار اور وزارت غذائی تحفظ کو قواعد و ضوابط کا اختیار حاصل ہے۔

72 ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ای وی چارجرز کے لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں، 2030 تک ملک بھر میں 3 ہزار الیکٹرک وہیکل چارج سٹیشن قائم کرنے کا ہدف ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ موجودہ مالی سال کیلئے 240 نئے چارج سٹیشنز قائم کرنا ہدف ہے، ای وی سٹیشنز کا قیام پبلک اور پرائیویٹ شعبہ کی خراج سے قائم ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ای وی سٹیشنز کی نگرانی کے لیے صنعت و پیداوار، پاور ڈویژن اور نیپرا ذمہ دار ہیں، چارجنگ سٹیشنز کے قیام کے لیے متعلقہ اداروں کو خصوصی اختیارات دیئے گئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • تمام قانونی راستے اختیار کیے، ہماری شنوائی نہیں ہو رہی: مشال یوسفزئی
  • پاکستان ایران سے 18 روپے فی یونٹ بجلی خریدتا ہے
  • پاکستان میں موبائل فون کی مینوفیکچرنگ میں 53 فیصد اضافہ
  • وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کی والدہ انتقال کرگئیں؛وزیر اعظم وسپیکر کا اظہار افسوس
  • ایران سے بلوچستان کیلئے درآمدی بجلی 18 روپے فی یونٹ، سینیٹ میں حکومتی وضاحت پیش
  • الیکٹرک وہیکل چارجنگ انفراسٹرکچر پالیسی پر عملدرآمد شروع
  • پاکستان ایران سے بجلی 18روپے فی یونٹ خریدتا ہے؟ سینیٹ میں وضاحت
  • پاکستان ایران سے بجلی کتنے روپے فی یونٹ خریدتا ہے؟ سینیٹ میں وضاحت
  • بجلی صارفین کیلئے اچھی خبر