ایران میں خشک سالی شدت اختیار کرگئی، پانی کی کمی کے باعث کارخہ ڈیم میں بجلی کی پیداوار بند
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
ایران کے حکام نے ہفتہ کو ملک کے بڑے ڈیموں میں سے ایک، کارخہ ڈیم، میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی کے سبب بجلی کی پیداوار روک دی۔
ڈیم اور اس کے پاور پلانٹ کے سربراہ عامر محمودی نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ کارخہ ڈیم کے ذخیرے میں پانی کی کمی کی وجہ سے پاور پلانٹ کی یونٹس کو پیداوار کے عمل سے ہٹا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: شدید خشک سالی: رواں سال بارش نہ ہوئی تو تہران کو خالی کرانا پڑسکتا ہے، صدر مسعود پزشکیان
انہوں نے مزید کہا کہ بعد ازاں ڈیم کے نچلے والو سے پانی چھوڑا گیا تاکہ ڈاؤن اسٹریم رہائشیوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
محمودی نے بتایا کہ ڈیم کے پیچھے موجود ذخیرہ اس وقت تقریباً ایک ارب کیوبک میٹر پانی رکھتا ہے اور موجودہ پانی کی سطح 180 میٹر ہے، جو بجلی پیدا کرنے کے لیے قدرتی سطح سے 40 میٹر کم ہے۔
میڈیا کے مطابق، کارخہ ڈیم دنیا کے سب سے بڑے ارتھ ڈیموں میں سے ایک اور ایران و مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا ڈیم ہے۔ یہ کارخہ دریا پر واقع ہے اور شہر اندیمشک سے 22 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تاریخی خشک سالی، تہران میں پینے کے پانی کا ذخیرہ 2 ہفتوں میں ختم ہوجائے گا
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران کو اپنی ریکارڈ شدہ تاریخ کے سب سے شدید خشک سالی میں سے ایک کا سامنا ہے۔ ایرانی میڈیا نے گزشتہ ہفتوں میں رپورٹ کیا تھا کہ اس سال بارش کی مقدار طویل مدتی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 90 فیصد کم ہو گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران بجلی تہران خشک سالی ڈیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران بجلی تہران خشک سالی ڈیم کارخہ ڈیم خشک سالی پانی کی
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
پاور ڈویژن نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال جون کے دوران بجلی صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا۔
اعلامیے کے مطابق ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو مجموعی طور پر 20 پیسے فی یونٹ کا فائدہ حاصل ہوگا۔
پاور ڈویژن کے مطابق جون میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سہ ماہی ریلیف کی شرح ماہانہ اضافے سے زیادہ رہی، جس کی وجہ سے صارفین کو خالص ریلیف میسر آئے گا۔
پاور ڈویژن نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار رہی اور برینٹ کروڈ آئل کی متوقع قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس صورتحال کے باوجود حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے بجلی صارفین کو بڑے اضافی مالی بوجھ سے محفوظ رکھا۔
اعلامیے کے مطابق اپریل میں بجلی کی قیمت میں ممکنہ طور پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے کا خدشہ تھا، تاہم حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اس اضافے کو محدود کرکے 1.73 روپے فی یونٹ تک رکھا گیا۔ اس طرح صارفین پر تقریباً 38 ارب روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہونے سے بچ گیا۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ محدود لوڈ مینجمنٹ، مقامی گیس کے استعمال اور فرنس آئل کے مؤثر استعمال کے ذریعے توانائی کے بحران کا مقابلہ کیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے جس سے مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا ریلیف صارفین کو ملے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ لائن لاسز میں کمی اور بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث صارفین کو نمایاں ریلیف فراہم ہوا، جبکہ متوقع بیس ٹیرف کے مقابلے میں 46 ارب روپے کی منفی تبدیلی بھی صارفین کے حق میں گئی۔
پاور ڈویژن نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے عالمی اور علاقائی سطح پر درپیش مشکلات کے باوجود بجلی کے نرخوں کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بجلی صارفین پاور ڈویژن ریلیف کا اعلان عوام کو خوشخبری وی نیوز