خطے میں نئی جنگی لکیریں؟ممکنہ بڑی جنگ ہونے جارہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ویلاگ اسلام ٹائمز اردو کی پیشکش ہے، جس میں اہم خبروں سے متعلق مفید تبصرے پیش کئے جاتے ہیں۔ ہر ہفتے کے روز، مختصر و مفید ویلاگز، دیکھنے و سننے والوں کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے۔ سامعین سے گزارش ہے کہ یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں اور اپنی مفید آراء سے مطلع فرمائیں۔ متعلقہ فائیلیںIslam Times V Log 29-11-2025 اسلام ٹائمز وی لاگ
New Strategic Shifts in the Region — Hezbollah Leadership Loss, Iran–Saudi–Pakistan Dynamics Explained
خطے میں نئی جنگی لکیریں؟ممکنہ بڑی جنگ ہونے جارہی ہے؟
بڑا اسٹریٹجک موڑ،شام میں تبدیلی کے ممکنہ آثار؟
ایران–سعودیہ–پاکستان کی نئی گیم؟اہم ترین دورے؟
ہفتہ وار پروگرام : اسلام ٹائمزوی لاگ وی لاگر: سید عدنان زیدی پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
پروگرام کا خلاصہ:
خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی و اسٹریٹجک صورتحال ایک نئے دور کی نشاندہی کر رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں حزب اللہ کے ایک اہم کمانڈر کی شہادت،
ایران–سعودیہ–پاکستان کے اسٹریٹجک فریم ورک میں تبدیلیوں
اور بڑی طاقتوں کے درمیان نئی جنگی لکیروں کے بننے سے خطہ ایک نئے موڑ پر کھڑا ہے۔
اس وی لاگ میں میں سید عدنان زیدی
ان اہم سوالات کا تجزیہ پیش کر رہا ہوں:
کیا خطہ ایک نئے اسٹریٹجک اتحاد کی طرف بڑھ رہا ہے؟
ایران کی نئی سفارتی موومنٹس کے کیا اثرات ہوں گے؟
پاکستان کا کردار کیسے بدل رہا ہے؟
حزب اللہ کے رہنما کی شہادت خطے کی طاقت کے توازن کو کیسے متاثر کرے گی؟
عرب ورلڈ، ایران اور جنوبی ایشیا کے درمیان تعلقات کیسے ری شیپ ہو رہے ہیں؟
یہ وی لاگ صرف تجزیاتی معلومات پر مبنی ہے—
کوئی تشدد، اشتعال یا حساس مواد شامل نہیں ہے۔
تجزیہ خالصتاً بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور سفارتی بیانات پر مبنی ہے۔
مزید غیر جانبدار اور مستند تجزیات کے لیے چینل اسلام ٹائمزکو سبسکرائب کریں اور کمنٹ سیکشن میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کیجئے شکریہ۔
#MiddleEastAnalysis
#Geopolitics
#StrategicShift
#IranSaudiPakistan
#HezbollahUpdate
#RegionalDynamics
#GlobalPolitics
#AdnanZaidi
#KhabardarBhawana
#WorldAffairs
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلام ٹائمز
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔