بیس سالہ سازش، بارہ روزہ ذلت و رسوائی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: حال ہی میں اسرائیلی حکام نے ایسے اعترافات کیے ہیں جو ایران سے جنگ میں ان کی شکست کو دوبالا کر دیتے ہیں۔ اسرائیل کی ایروسپیس پروڈکٹشن کمپنی یو ویژن ایئر لمیٹڈ کے منیجر ران گوزالی نے ایک کانفرنس میں حیرت اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت سے اعتراف کرتے ہوئے کہا: "ہم ہر گز یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی اتنی بڑی تعداد میں میزائل اسرائیل کے مرکز پر داغ سکتا ہے اور حتی شہری علاقوں اور اسپتالوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔" اس نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے میزائلوں کی جنگ میں ایک نیا باب کھول دیا ہے اور اس جنگ کا مستقبل میزائلوں کی "موسلادھار بارش" کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اسرائیل ڈیفنس جیسے اسرائیلی میڈیا ذرائع میں اس اعتراف کو بہت زیادہ کوریج ملی ہے جس سے ایران کی میزائل طاقت سے تل ابیب کی وحشت کا اظہار ہوتا ہے۔ تحریر: مہدی سیف تبریزی
رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے جمعرات 27 نومبر کے دن قوم کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے ایران پر فوجی جارحیت پر مبنی "شرارت" کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے اندر خانہ جنگی پیدا کرنے کی 20 سالہ منصوبہ بندی کے نتیجے میں انجام پایا تھا اور اس میں ایرانی عوام کو حکمفرما نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے لیے ورغلایا گیا تھا لیکن اس شیطنت آمیز اقدام کا نتیجہ ان کی مرضی سے بالکل الٹ ظاہر ہوا۔ ولی امر مسلمین نے کہا: "صیہونی رژیم نے اس جنگ کے لیے بیس سالہ منصوبہ بندی کر رکھی تھی تاکہ ایرانی عوام کو اشتعال دلائے اور انہیں نظام کے خلاف بھڑکائے لیکن یہ سازش ناکام رہی اور حتی نظام کے مخالفین نے بھی نظام کا ساتھ دیا اور ملک میں وسیع اتحاد تشکیل پا گیا۔"
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر حملے میں اسرائیل کی بھرپور حمایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "بارہ روزہ جنگ میں ملت ایران نے بلاشک امریکہ کو بھی اور صیہونی رژیم کو بھی شکست دی ہے۔ وہ آئے، شرارت کی لیکن مار کھائی اور خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے اور اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر پائے۔" رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمن کو پہنچنے والا نقصان ایران کے نقصان سے "کہیں زیادہ" قرار دیا اور کہا: "دشمن کو پہنچنے والا نقصان ہمارے ملک کے نقصان سے کہیں زیادہ تھا، البتہ ہمیں بھی نقصان پہنچا ہے لیکن وہ جس نے حملہ شروع کیا اسے ہم سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔" یہ بیان اسرائیل کی فوجی جارحیت کا منہ توڑ تجزیہ ہے کہ طویل المیعاد منصوبہ بندی اور مغربی کی بھرپور مالی اور فوجی مدد کے باوجود نہ صرف اسرائیل اپنے مقاصد حاصل نہ کر پایا بلکہ ایرانی میزائلوں سے اس پر کاری ضرب بھی لگی۔
تلخ اعترافات اور سپرپاور ہونے کے افسانے کا خاتمہ
حال ہی میں اسرائیلی حکام نے ایسے اعترافات کیے ہیں جو ایران سے جنگ میں ان کی شکست کو دوبالا کر دیتے ہیں۔ اسرائیل کی ایروسپیس پروڈکٹشن کمپنی یو ویژن ایئر لمیٹڈ کے منیجر ران گوزالی نے ایک کانفرنس میں حیرت اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت سے اعتراف کرتے ہوئے کہا: "ہم ہر گز یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی اتنی بڑی تعداد میں میزائل اسرائیل کے مرکز پر داغ سکتا ہے اور حتی شہری علاقوں اور اسپتالوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔" اس نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے میزائلوں کی جنگ میں ایک نیا باب کھول دیا ہے اور اس جنگ کا مستقبل میزائلوں کی "موسلادھار بارش" کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اسرائیل ڈیفنس جیسے اسرائیلی میڈیا ذرائع میں اس اعتراف کو بہت زیادہ کوریج ملی ہے جس سے ایران کی میزائل طاقت سے تل ابیب کی وحشت کا اظہار ہوتا ہے۔
اگرچہ اسرائیل نے ایرانی میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹاڈ، ایرو، پیٹریاٹ، ڈیوڈ اسلنگ اور آئرن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹمز کے ساتھ ساتھ ملٹی نیشنل ریڈار، فوجی سیٹلائٹ اور اردن سے خلیج فارس تک امریکی فوجی اڈوں میں فضائی دفاعی نظام کے وسیع نیٹ ورک کا سہارا لے رکھا تھا لیکن یہ سب ایران کے میزائلوں کے سامنے بے بس ہو گئے۔ یہ محض ایک فوجی شکست نہیں تھی بلکہ ایک طنز آمیز افسانے کا زوال تھا۔ وہی افاسنہ جس کا مغربی ذرائع نے سالہا سال ڈھنڈورا پیٹا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ "اسرائیل خطے کی سپرپاور ہے۔" آج یہ حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ غاصب صیہونی رژیم، امریکہ، برطانیہ، برسلز اور اتحادی حکومتوں کے بغیر حتی اپنی فضاوں کی حفاظت کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتی چہ جائیکہ "گریٹر اسرائیل" جیسے اوہام کا شکار ہو جائے۔
تل ابیب کا تاریک مستقبل
اسرائیل پر لگنے والی ایک کاری ضرب مقبوضہ فلسطین سے یہودی آبادکاروں میں اسرائیل چھوڑ کر وطن واپس چلے جانے کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ دانشور، محققین اور ماہرین اسرائیل چھوڑ کر جا رہے ہیں جس سے اسرائیل کی ایلیٹ کلاس شدید خطرے کا شکار ہو گئی ہے۔ اکتوبر 2023ء سے نومبر 2025ء تک تقریباً دو لاکھ کے قریب چالیس سال سے کم عمر یہودی آبادکار جن کا تعلق امیر طبقے سے تھا، اسرائیل چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ایران سے جنگ نے اس شرح میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ہائی ٹیک کے 8 ہزار سے زیادہ ورکر گذشتہ برس اسرائیل سے امریکہ، کینیڈا اور جرمنی جا چکے ہیں جبکہ یہ تعداد اسرائیلی ہائی ٹیک شعبے کا 2 فیصد سے زیادہ حصہ تشکیل دیتی ہے۔ مزید برآں، 900 ڈاکٹر، 19 ہزار یونیورسٹی ڈگری ہولڈر اور 3 ہزار انجینئر بھی اسرائیل چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
تل ابیب یونیورسٹی نے حال ہی میں ایک وارننگ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صیہونی رژیم 1.
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیل چھوڑ کر کرتے ہوئے کہا میزائلوں کی میں اسرائیل صیہونی رژیم اسرائیل کی سے اسرائیل سے اعتراف ایران سے سے ایران کہ ایران کی جانب سکتا ہے تل ابیب نظام کے ہے اور کو بھی اور اس
پڑھیں:
مصر کے وزیر خارجہ 2 روزہ دورے پر آج پاکستان پہنچیں گے
مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد عبدالعاطی 2 روزہ دورے پر آج پاکستان پہنچیں گے۔اس اہم دورے کا محور پاکستان اور مصر کے دیرینہ اور خوشگوار تعلقات کو قرار دیا گیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے معزز مہمان اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقاتیں ہوں گی۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال ہوگا، مذاکرات میں غزہ کی تازہ صورتحال بھی زیرغور آئےگی، مصری وزیر خارجہ کا دورہ دونوں ممالک میں شراکت داری مزید مضبوط کرے گا۔