وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت کو عمران خان سے کوئی خوف نہیں، قانون کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہونی چاہیے۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت ہونی چاہیے، تین گھنٹے کی ملاقات کے بعد ڈیڑھ گھنٹے کی پریس کانفرنس نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جلاؤ گھیراؤ، اسلام آباد کی طرف چڑھائی کی باتیں نہیں ہونی چاہیے، کوئی قانون اجازت نہیں دیتا کہ کوئی جیل میں بیٹھ کر باہر کوئی تحریک چلائے، یہ اجازت نہیں کہ بانی پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات کرے اور باہر آکر کئی گھنٹے کی پریس کانفرنس کرے۔ان کا کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی نے اس 26نومبر کو احتجاج کی کال دی ہوئی تھی جس عدالت نے ان کو ملاقات کی اجازت دی، اس میں دونوں چیزیں ہیں کہ ملاقات کرائی جائے اور سیاست نہ کی جائے، نوازشریف لندن گئے تھے تو کیا جیل توڑ کر گئے تھے؟ اس وقت کی کابینہ نے اجازت دی تھی۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت کو بانی پی ٹی آئی سے کوئی خوف نہیں، قانون کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہونی چاہیے، انٹیلی جنس رپورٹس تھیں کہ یہ لوگ 26 نومبر کو گزشتہ 26 نومبر جیسا احتجاج کرنے جارہے ہیں۔اہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کو اڈیالا کے باہر بھوک ہڑتا ل کرنی چاہیے، وزیراعلیٰ کے پی کو اس وقت تک بھوک ہڑتال کرنی چاہیے جب تک وہ عشق بانی پی ٹی آئی میں مرے نہ۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا کہنا تھاکہ رانا ثنا اللہ نے خود کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہونی چاہیے، ان کو بانی پی ٹی آئی سے خوف ہے، پچھلے دنوں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ آئے جو تشویشناک ہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی کی صحت سےمتعلق تحفظات ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آبا د ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی وزیراعلیٰ کے پی سے ملاقات کرائی جائے، ہماری پوری لیڈرشپ کل اڈیالا کے باہر موجود تھی، وزیراعلیٰ کے پی نے خواہش کا اظہار کیا کہ چیف جسٹس سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ان کا کہنا تھاکہ جہاں خیبرپختونخوا کی حدود ختم ہوتی ہے یہ لوگ ہم پر تشدد کرتے ہیں، حکومت میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو عدالت لے کر آئیں، بانی پی ٹی آئی حکومت کیلئے خوف کی علامت بن چکے ہیں، کل ہم نے اڈیالا روڈ پر علامتی دھرنا دیا، احتجاج کیلئے ہمیں ملاقات کی ضرورت نہیں، علی امین کو تبدیل کرنا تھا اس کا میسج آگیا تھا۔خیال رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے دینے کی دھمکی دی، منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے سام

نے احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کہ بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھاکہ رانا ثنا اللہ ہونی چاہیے نے کہا کہ

پڑھیں:

تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ

پاکستان میں ہر 45 منٹ بعد ایک خاتون حمل سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث جان سے محروم ہوجاتی ہے، ماں کی زندگی بچانے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی اور صحت کی سہولیات تک رسائی ضروری ہے۔

جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے شعبہ امراض نسواں وارڈ 9-B کے اشتراک سے چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرین صحت، محققین، پالیسی سازوں اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔

سمٹ کا موضوع ’’نوجوان، خاندانی منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل جدت‘‘ تھا، جس کا مقصد زچہ و بچہ کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید اور مؤثر حکمت عملیوں پر غور کرنا تھا۔

سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ سندھ حکومت زچگی کی سہولیات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے، پرانی ڈسپنسریوں کو برتھنگ اسٹیشنز میں تبدیل کیا جارہا ہے، جبکہ کمیونٹی مڈوائفز کو محفوظ طریقے سے گھروں میں زچگی کی خدمات فراہم کرنے کے لیے تربیت دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیچیدہ اور ہنگامی زچگی کے کیسز کو بروقت اسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس سسٹم کو مزید مؤثر بنایا جارہا ہے، جبکہ صحت کے مراکز پر ادویات اور ضروری طبی سامان کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے سپلائی چین کے نظام میں بھی بہتری لائی جارہی ہے، تاکہ بنیادی سطح پر کام کرنے والے طبی عملے کو مریضوں کی جان بچانے کے لیے تمام ضروری سہولیات دستیاب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں میڈیا کی موجودگی کی اجازت نہیں ہوتی، میڈیا سے بات کرنے کے خواہشمند ڈاکٹر اور دیگر افراد اسپتال سے باہر آ کر اپنا مؤقف دیں۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ اسپتالوں کی خامیوں کی نشاندہی کریں، کیونکہ آپ کی نشاندہی سے ہی ہمیں مدد ملتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام ڈاکٹرز کو میڈیا سے بات کرنے اور اپنا مؤقف دینے کی اجازت ہے، ڈاکٹرز میڈیا کو مؤقف دیں اور تمام حقائق سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جناح اسپتال کے مسائل کے لیے ڈاکٹر خالد شیر سے رابطہ کریں، میں نے ڈاکٹر خالد شیر کو کہہ دیا ہے کہ اب سے وہ میڈیا کو مؤقف دیں گے۔

کراچی میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں جاری چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ آج میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ سندھ کیا کر رہا ہے، سندھ حکومت کیا کر رہی ہے، اور سندھ اس حوالے سے ملک میں سب سے آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سے ایسے قوانین بنائے ہیں جو کہیں اور موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی سیکشن کی وجہ سے سندھ میں شرحِ اموات بڑھ رہی ہے، ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور بہت جلد اس کے نتائج نظر آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو خاتون تیسرے سی سیکشن کے بعد آئے، اس کی ٹی ایل کر دینی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود نہیں، اس لیے اس میں بہتری کے لیے پیدائشی اسٹیشن سینٹرز بنائے جا رہے ہیں۔

وزیر جامعات و بورڈ اسماعیل راؤ نے سمٹ کے انعقاد پر پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، اعلیٰ تعلیمی اداروں کا مقصد صرف ڈگریاں دینا نہیں بلکہ نوجوانوں میں تولیدی صحت، ذمہ دارانہ فیصلوں اور صحت سے متعلق آگاہی کا شعور بھی اجاگر کرنا ہے۔

وائس چانسلر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور چیف پیٹرن پروفیسر امجد سراج میمن نے مردانہ مانع حمل طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبادی پر قابو پانے کے لیے ویزیکٹومی ایک اہم ذریعہ ہے، اس حوالے سے آگاہی اور تمام اسپتالوں میں سہولیات کی دستیابی یقینی بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ویزیکٹومی کے کیسز 2021 میں 24 سے بڑھ کر 2025 میں 4 ہزار سے تجاوز کرگئے ہیں، جس رجحان کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

چیف آرگنائزر پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ، پرو وائس چانسلر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور سربراہ شعبہ امراض نسواں وارڈ 9-B، جے پی ایم سی نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں سالانہ تقریباً 60 لاکھ افراد کا اضافہ ہورہا ہے، جبکہ مانع حمل طریقوں کا استعمال صرف 34 فیصد ہے اور 17.8 فیصد افراد کی خاندانی منصوبہ بندی کی ضروریات پوری نہیں ہورہیں۔

انہوں نے کہا کہ سمٹ کا مقصد نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل ذرائع اور درست معلومات سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنی صحت اور مستقبل سے متعلق باخبر اور ذمہ دارانہ فیصلے کرسکیں۔سمٹ میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر ڈاکٹر خالد شیر سمیت دیگر ماہرین، محققین اور پالیسی سازوں نے بھی شرکت کی۔

مقررین نے زچہ و بچہ کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی میں توازن کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں ہر 45 منٹ بعد حمل اور زچگی سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث ایک خاتون کی موت کا مسئلہ انتہائی تشویشناک ہے، جس سے نمٹنے کے لیے بروقت طبی امداد، محفوظ زچگی، خاندانی منصوبہ بندی اور بنیادی صحت کی سہولیات تک آسان رسائی کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔

سمٹ میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ’’ماں رہے سلامت‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ پاکستان کے بہتر عوامی صحت کے مستقبل کے لیے ایک مستقل اور متحد قومی ترجیح بننا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • رانا ثنا اور امیر مقام کی برطانوی بزنس مین سے ملاقات، راجہ وسیم نے غلاف کعبہ بطور تحفہ پیش کیا
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ