وزیراعلیٰ کے پی کو اس وقت تک بھوک ہڑتال کرنی چاہیے جب تک وہ عشق عمران خان میں مرے نہ، رانا ثنا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت کو عمران خان سے کوئی خوف نہیں، قانون کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہونی چاہیے۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت ہونی چاہیے، تین گھنٹے کی ملاقات کے بعد ڈیڑھ گھنٹے کی پریس کانفرنس نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جلاؤ گھیراؤ، اسلام آباد کی طرف چڑھائی کی باتیں نہیں ہونی چاہیے، کوئی قانون اجازت نہیں دیتا کہ کوئی جیل میں بیٹھ کر باہر کوئی تحریک چلائے، یہ اجازت نہیں کہ بانی پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات کرے اور باہر آکر کئی گھنٹے کی پریس کانفرنس کرے۔ان کا کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی نے اس 26نومبر کو احتجاج کی کال دی ہوئی تھی جس عدالت نے ان کو ملاقات کی اجازت دی، اس میں دونوں چیزیں ہیں کہ ملاقات کرائی جائے اور سیاست نہ کی جائے، نوازشریف لندن گئے تھے تو کیا جیل توڑ کر گئے تھے؟ اس وقت کی کابینہ نے اجازت دی تھی۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت کو بانی پی ٹی آئی سے کوئی خوف نہیں، قانون کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہونی چاہیے، انٹیلی جنس رپورٹس تھیں کہ یہ لوگ 26 نومبر کو گزشتہ 26 نومبر جیسا احتجاج کرنے جارہے ہیں۔اہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کو اڈیالا کے باہر بھوک ہڑتا ل کرنی چاہیے، وزیراعلیٰ کے پی کو اس وقت تک بھوک ہڑتال کرنی چاہیے جب تک وہ عشق بانی پی ٹی آئی میں مرے نہ۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا کہنا تھاکہ رانا ثنا اللہ نے خود کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہونی چاہیے، ان کو بانی پی ٹی آئی سے خوف ہے، پچھلے دنوں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ آئے جو تشویشناک ہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی کی صحت سےمتعلق تحفظات ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آبا د ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی وزیراعلیٰ کے پی سے ملاقات کرائی جائے، ہماری پوری لیڈرشپ کل اڈیالا کے باہر موجود تھی، وزیراعلیٰ کے پی نے خواہش کا اظہار کیا کہ چیف جسٹس سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ان کا کہنا تھاکہ جہاں خیبرپختونخوا کی حدود ختم ہوتی ہے یہ لوگ ہم پر تشدد کرتے ہیں، حکومت میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو عدالت لے کر آئیں، بانی پی ٹی آئی حکومت کیلئے خوف کی علامت بن چکے ہیں، کل ہم نے اڈیالا روڈ پر علامتی دھرنا دیا، احتجاج کیلئے ہمیں ملاقات کی ضرورت نہیں، علی امین کو تبدیل کرنا تھا اس کا میسج آگیا تھا۔خیال رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے دینے کی دھمکی دی، منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے سام
نے احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کہ بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھاکہ رانا ثنا اللہ ہونی چاہیے نے کہا کہ
پڑھیں:
وزیرِاعلیٰ کےپی کو اگر بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کرنی ہے تو عوامی طاقت سے ایوان کی کارروائی روک دیں: محمود اچکزئی
---فائل فوٹوسربراہ تحریکِ تحفظِ آئین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اگر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرنی ہے تو عوامی طاقت سے ایوان کی کارروائی روک دیں۔
محمود خان اچکزئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تحریکِ انصاف کو تجویز ہے کہ ایوان کی کارروائی روک دیں۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کو خوش فہمی تھی کہ وہ فیڈریشن کا یونٹ ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے راولپنڈی کے گورکھ پور ناکے پر جاری دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا پے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کے پی کو گماں تھا کہ عدالت نے لکھ کر دیا ہے تولیڈر سے ملنے دیا جائے گا، اُنہوں نے دیکھا یہاں کوئی شرافت کی زبان نہیں سمجھتا۔
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے راولپنڈی کے گورکھ پور ناکے پر جاری دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کے ساتھ مشاورت میں منگل کو دوبارہ اڈیالہ آنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے، فیملی ملاقات کے موقع پر کارکنوں کو بھی آنے کی کال دی جائے گی۔