data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251128-08-19
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارٹی کے بانی عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ ’افواہوں‘ پر حکومت سے وضاحت طلب کی ہے اور حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیرِاعظم کی اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کا فوری انتظام کیا جائے۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حالیہ ہفتوں میں عمران خان کی بہنوں کو بارہا ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث انہوں نے سابق وزیرِاعظم کی موجودگی پر سوالات اٹھائے اور اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھ کر احتجاج کیا۔ مزید یہ کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر متعدد اکاؤنٹس نے ان کی ’موت‘ سے متعلق غیر مصدقہ دعوے شیئر کیے ہیں، جنہیں بھارتی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا ہے، جمعرات کی صبح ایکس پر ‘عمران خان کہاں ہیں؟’ کا ٹرینڈ بھی چل رہا تھا۔ جمعرات کی صبح ایکس پر جاری ایک بیان میں پارٹی نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق ’قبیح نوعیت کی افواہیں‘ افغان اور بھارتی میڈیا اور غیر ملکی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ موجودہ حکومت اور وزارتِ داخلہ فوری طور پر اس افواہ کی واضح تردید اور وضاحت کریں اور عمران خان اور ان کے اہلِ خانہ کی ملاقات کا فوری انتظام کریں۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ ریاست کی جانب سے عمران خان کی صحت، سلامتی اور موجودہ حیثیت کے بارے میں باقاعدہ اور شفاف بیان جاری کیا جائے۔ مزید کہا گیا کہ ریاست ان افراد کی تحقیقات کرے، جو حساس نوعیت کی افواہیں پھیلا رہے ہیں اور مطالبہ کیا کہ حقائق قوم کے سامنے پیش کیے جائیں۔ اپنے بیان میں پارٹی نے متنبہ کیا کہ قوم اپنے قائد (عمران خان) کے بارے میں کسی بھی قسم کی بے یقینی برداشت نہیں کرے گی۔ پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران کی سیکورٹی، انسانی حقوق اور آئینی حقوق کے تحفظ کی ذمے دار براہِ راست حکومت ہے، پارٹی نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ان افواہوں کا مقابلہ کرنے اور سچ کو سامنے لانے کے لیے ہر قانونی اور سیاسی قدم اٹھائے گی۔ دریں اثناء ، پی ٹی آئی رہنما مہر بانو قریشی (جو سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی بیٹی بھی ہیں) نے ایکس پر کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق افواہیں تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خان صاحب کی حفاظت کی ذمے دار ہے اور قوم کو آگاہ کرنے کے لیے بیان جاری کرنا اس کا فرض ہے، جہاں تک ان افواہوں کے خاتمے کی بات ہے، سب سے بہترین اور قابلِ اعتماد طریقہ یہ ہے کہ خان صاحب کی بہنوں، وکلا اور پارٹی ارکان کو ان سے ملاقات کرنے دی جائے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عمران خان کی صحت مطالبہ کیا پی ٹی ا ئی پارٹی نے ایکس پر کیا کہ کہا کہ

پڑھیں:

25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر

سٹی 42:  25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل  ہوگیا ۔

صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر دیگر مقامی قائدین اور کارکنان کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک پہنچ گئے ۔ مینار پاکستان، صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر  نے  میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے کہا جلسے کی اجازت دینے پر وزیراعلی مریم نواز کے مشکور ہیں۔پرنسپل سیکرٹری نے ہمیں بتایا کہ اجازت دے دی گئی ہے۔جلسے کی تاحال زبانی اجازت دی گئی ہے تحریری اجازت ابھی نہیں دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

جلسے کی اجازت دے کر مریم نواز نے جمہوری روایات کو پروان چڑھایا ہے۔آج 23 جولائی کو آئے ہیں  ساری رات یہیں ہیں۔جلسے کے دوران  صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ کا  کیک کاٹیں گے۔

25 جولائی کو جلسہ 8 بجے شروع ہو گا۔بلاول بھٹو وڈیو لنک سے خطاب کریں گے۔راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضی قمر زمان کائرہ و دیگر قائدین خطاب کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری