سرکاری مشینری نئے صوبوں کی مہم چلا رہی ہے، عوامی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ساجد حسین مہیسَر، مرکزی نائب صدر ستار رند، مرکزی رہنما لال جروار، ایڈووکیٹ سروان جتوئی اور ایڈووکیٹ آصف کوسو نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ سرکاری مشینری کے ذریعے نئے صوبوں کی مہم چلائی جارہی ہے۔ وفاقی حکومت، پیپلز پارٹی کی سہولت کاری سے سندھ کی وحدت پر حملہ کر رہی ہے۔ سندھ کو تقسیم کرنے، این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنے، نیا بلدیاتی نظام مسلط کرنے اور دیگر ملک دشمن منصوبوں کی تکمیل کے لیے 28ویں ترمیم لائی جا رہی ہے۔ مخصوص کاروباری میڈیا ہاؤسز کے ذریعے نئے صوبوں کی مہم کو تیز کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے نجی یونیورسٹیز کو استعمال کیا جا رہا ہے۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ ”18ویں ترمیم کی واپسی کی مخالفت کریں گے” والا پیپلز پارٹی کا بیان محض ڈھونگ اور فریب ہے۔ پیپلز پارٹی 2023ء میں بورڈ آف انویسٹمنٹ ترمیمی ایکٹ منظور کرا کے 18ویں ترمیم کو عملی طور پر ختم کر چکی ہے۔ 18ویں ترمیم کو غیر آئینی طور پر غیر مؤثر بنا کر ایس آئی ایف سی کا ادارہ قائم کیا گیا، جسے صوبوں کی زمینوں اور وسائل کی فروخت کا لائسنس دیا گیا ہے۔ ایس آئی ایف سی کے تحت سندھ کی زمینوں اور وسائل پر قبضے ہو رہے ہیں، جنہیں فوری طور پر روکا جائے، اور اس ادارے کو فی الفور ختم کیا جائے۔رہنماؤں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران بلاول نے کہا تھا کہ ”جو کارونجھر کاٹے گا، اس کے ہاتھ کاٹ دیں گے”، لیکن اب بلاول کی اپنی حکومت کارونجھر کو کاٹنے کے لیے آئینی عدالت سے فیصلہ لینا چاہتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی غلط بیانی عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے۔ کارونجھر کی کٹائی روکنے کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف آئینی عدالت میں جانا خود پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو زرداری کی سندھ دشمنی کو ظاہر کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اقتدار کی لالچ میں سندھ کا سودا کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی صوبوں کی رہی ہے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
تحریک انصاف کے رہنما شفیع جان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی کیمپین کر رہے ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی وزیر وہاں ہوتا تو الیکشن کمیشن حرکت میں آچکا ہوتا۔ الیکشن کمیشن کی یہ خاموشی ہمیں سمجھ نہیں آرہی۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے الحاق کیا تو اُس کو بھی کینسل کر دیا گیا اور ہمارے اُمیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کر دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام فیصلہ کر چکے ہیں، 7 جون کو تحریک انصاف کامیاب ہو گی۔ ہم اپنے ووٹ کو محفوظ بنانے کے مکینزم پر کام کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی ایک اور واردات کی تیاری کی جارہی ہے وہ ہم کرنے نہیں دیں گے۔ اس کے خلاف ہمیں اگر گلگت بلتستا ن بند کرنا پڑا تو یہ بھی کریں گے۔