کچے کے علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشنز کو تیز کر دیا ،کھدیو ہمنانی
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )حکومتِ سندھ کے ترجمان سکھدیو ہمنانی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایات پر 100 اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (SSU) کمانڈوز کی اسٹریٹجک طور پر اہم کندھکوٹ–گھوٹکی پل پر تعیناتی سے سیکیورٹی مزید مضبوط ہوئی ہے، عوامی آمدورفت محفوظ ہوئی ہے اور اہم تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گھوٹکی اور سکھر کے کچے میں پولیس کی حالیہ کارروائیوں نے بدنام ڈاکو سرداروں کے اْس نیٹ ورک کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہے جو سندھ اور پنجاب میں قتل و اغوا کی سنگین وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔سکھدیو ہمنانی نے کہا کہ سندھ حکومت نے کشمور، گھوٹکی، شکارپور اور ملحقہ کچے کے علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشنز کو تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں جرائم پیشہ گروہوں کو بڑا نقصان ہوا ہے۔ مسلسل دباؤ کے باعث حریف ڈاکو گروہوں میں باہمی لڑائی بھی شروع ہوگئی ہے، جس سے ان کے نیٹ ورک مزید کمزور ہو رہے ہیں۔سکھدیو ہمنانی نے شہریوں کے تحفظ کے لیے شہادت پانے والے پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بھرپور کارروائی کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں۔ حالیہ آپریشنز میں 170 سے زائد ڈاکو مارے جا چکے ہیں جبکہ سیکڑوں گرفتار یا زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ کی منظم ’’سرنڈر اور ری ہیبلیٹیشن پالیسی‘‘ کے تحت درجنوں ڈاکوؤں نے خود کو رضاکارانہ طور پر پولیس کے حوالے کیا ہے، اپنے ہتھیار جمع کروائے ہیں اور نگرانی میں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے معاشرے میں دوبارہ شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ہمنانی نے زور دیا کہ ’’یہ کوئی عام معافی نہیں بلکہ ایک مشروط پروگرام ہے جو جرم چھوڑنے والوں کو قانون کا پابند شہری بن کر اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کا موقع دیتا ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ کچے کے علاقے سے ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ اور امن کی بحالی کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ ’’حکومتِ سندھ صوبے کے تمام کچے علاقوں میں امن، ترقی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں، مقامی انتظامیہ اور کمیونٹی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
سٹی 42:فری لانسرز اور آئی ٹی سے وابستہ افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع ہوگئی ۔طویل بندش کے بعد شہریوں نے سکھ کا سانس لے لیا، خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
مختلف علاقوں میں سوشل میڈیا اور آن لائن سروسز جزوی طور پر بحال ہوگئی ۔۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا شہریوں نے حکومت سے مستقبل میں بلا تعطل سروس کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا ۔
میرپور اور گردونواح میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع ہوگئی ۔طویل بندش کے بعد شہریوں نے سکھ کا سانس لے لیا، خوشی کی لہر دوڑ گئی۔مختلف علاقوں میں سوشل میڈیا اور آن لائن سروسز جزوی طور پر بحال ہو رہی ہیں ۔ کاروباری طبقے نے انٹرنیٹ بحالی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ۔ طلبہ کو آن لائن تعلیم اور اسائنمنٹس میں دوبارہ سہولت میسر مل گئی ۔
فری لانسرز اور آئی ٹی سے وابستہ افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بندش سے معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے،بینکنگ، ای کامرس اور آن لائن ٹرانزیکشنز بھی متاثر رہی تھیں۔بحالی کے بعد کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آنے کا امکان ہے ۔ بعض علاقوں میں انٹرنیٹ کی رفتار تاحال سست، مکمل بحالی کا انتظار کیا جارہاہے ۔ انتظامیہ کے مطابق جلد تمام علاقوں میں مکمل سروس بحال کر دی جائے گی۔
شہریوں نے حکومت سے مستقبل میں بلا تعطل سروس کی فراہمی کا مطالبہ کردیا ۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی