میئر حیدرآباد کا کراچی میں معذورافراد کے ادارے IHRIکا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر)میئر حیدرآباد کاشف علی شورو نے کلفٹن کراچی میں واقع معذورافراد کی بحالی کے مرکزIHRIکا ادارے کے چیئرمین / CEO رزاق پردیسی کی دعوت پر کا دورہ کیا اس موقع پر حیدرآباد کے سماجی کارکن نورالدین روجھانی بھی انکے ہمراہ تھے۔ملاقات میں IHRI کے چیئرمین / CEO رزاق پردیسی نے ادارے کے اغراض و مقاصد سے میئر حیدرآباد کاشف علی شور کوآگاہ کرتے ہوئے بتا یا کہ IHRI ایک مکمل دیکھ بھال کے نقطہ نظر کے ذریعے، دنیا بھر میں مختلف معذور افراد کو خود مختار بننے اور بااختیار بنانے کی کوشش کرتا ہے۔اور ہم مختلف طریقوں کی مکمل دیکھ بھال کے ذریعے مختلف معذور افراد کو آزادانہ زندگی گزارنے کے قابل بنارہے ہیں۔ اس مشن ہم کے تحت کسی بھی معذوری کے ساتھ ہر عمر کے لیے طبی، جسمانی، نفسیاتی، غذائیت اور دیگر علاج کو شامل کرنے کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کے ساتھ ایک انتہائی جدید اپروچ بحالی مرکز قائم کر رہے ہیں، خصوصی بچوں کو تمام مطلوبہ علاج کے ساتھ ساتھ عام نصاب اور اسلامی تعلیم سمیت مکمل ماہرین تعلیم بھی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے حیدرآباد میں بھی معاشرے کے خصوصی افراد کیلئے IHRIکے کیمپس کے قیام کی خواہش کا اظہار کیا۔ میئر حیدرآباد نے IHRI کے چیئرمین / CEO رزاق پردیسی کا انہیں ادارے میں مدعو کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی خدمت افضل عبادت ہے اور آپ اور آپ کا ادارہ اس پر عملی طور پر عمل پیرا ہے اورمعاشرے کے معذور و خصوصی افراد و بچوں کو کسی قابل بنانے کیلئے انکے علاج،تعلیم و تربیت کار خیر ہے اور اس میں بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد حیدرآباد کے خصوصی افراد کی بحالی تعلیم و تربیت اور معاشرے کا خودمختار فرد بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے آپ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔