پڈعیدن: پی پی کے کونسلر چوہدری شبیر پر فائرنگ، زخمی حالت میں اسپتال منتقل
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پڈعیدن(نمائندہ جسارت) پڈعیدن پی پی کونسلر چودھری شبیر آرائیں پر مسلح افراد کی فائرنگ، تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل شہر میں خوف کی فضا ،ملزمان فرار۔ تفصیلات کے مطابق پڈعیدن اسٹیشن وارڈ نمبر دس میں پی پی کونسلر چودھری شبیر حسین آرائیں اپنی دوکان پر بیٹھے تھے کہ اچانک مسلح افراد نے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجہ میں چودھری شبیر حسین آرائیں کو دو گیاں لگیں واقع کی اطلاع پر اہلے محلہ نے فوری طور پر پڈعیدن اسپتال منتقل کردیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد تشویشناک حالت میں نوابشاہ منتقل کردیا گیا،اطلاعات کے مطابق واقعہ میں مبینہ ملوث پی پی کونسلر چودھری شبیر حسین آرائیں کے پڑوسی ببی ولد ناصر جٹ کے گھر کا پولیس نے گھیرا کرلیا ہے اور مبینہ ملزم کی تلاش شروع کردی ہے پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے بعد ہی اصل حقائق جلد سامنے لائے جائیں گے،جبکہ افسوسناک واقع کے بعد شہرمیں خوف کی فضاء چھا گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چودھری شبیر
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔