60فیصد کیسز غلط ہوتے ہیں جج کو سڑیس لینا دینا چاہیے : جسٹس جواد
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے کہا کہ جج کو سٹریس لینا نہیں سٹریس دینا چاہیے۔ جوڈیشل اکیڈمی میں عدالتی فیصلوں کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال کے موضوع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے سب سے مشکل کیس کیے، مجھے کبھی سٹریس نہیں ہوا اور بہت سے سیاسی کیس بھی آئے مگر کبھی سٹریس نہیں ہوا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ جج کو کورٹ ہینڈلنگ اور اس کے فیصلوں سے پرکھا جاتا ہے لہٰذا تمام کورسز نئے آنے والے ججز کے لیے بہت ضروری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں میں 60 فیصد کیسز غلط آتے ہیں، ہم نے وہ کورسز کرنے ہیں جو دنیا میں چل رہے ہیں، ہر ہائیکورٹ میں 30 سے 40 فیصد فیملی کیسز آتے ہیں، ہر جج پہلی سماعت پر کیس خارج کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ججوں کو قانون کی حکمرانی کیلئے کھڑے ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل
اسلام آباد:سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے ججوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ججوں کو قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑے ہونا چاہیے۔
فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں تقریب سے خطاب میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ججوں کو قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑا ہونا چاہیے اور ججوں کو فیصلے قانون کے مطابق کرنے چاہیے نہ کہ ذاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ججوں کو کسی دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرنے چاہئیں، ججوں کو ہمیشہ صرف آئین کو ہی بالادست قرار دینا چاہیے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ججوں کو اپنی تمام توانائیاں سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے صرف کرنی چاہئیں۔