data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ وہ آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، تاہم اگر اُن کی سیاسی جماعت کو جینے کا حق نہ دیا گیا تو وہ بھی جواب دینا جانتے ہیں۔

صوابی کے علاقے ٹوپی میں نئے بس اسٹینڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ آئین و قانون کا راستہ اپنایا ہے اور ایک بار پھر ریاستی نظام کو موقع دے رہے ہیں، مگر انہیں دیوار سے لگا کر مسائل حل نہیں ہو سکتے،

اسد قیصر نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جو جیل مینوئل کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یکطرفہ دباؤ اور مسلسل پابندیاں جمہوریت کے مفاد میں نہیں ہیں،عمران خان کی اہلِ خانہ اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ملاقات تک نہیں کرائی جا رہی جبکہ قانون کے مطابق ہر قیدی کو یہ بنیادی حق حاصل ہے، اگر انصاف کا عمل یکطرفہ رہا تو سیاسی بےچینی مزید بڑھے گی۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ خطے میں جنگ نہیں، سفارت کاری واحد راستہ ہے۔ انہوں نے عالمی اور علاقائی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں، کیونکہ خیبرپختونخوا مزید کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ بدامنی نے صوبے کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا، سرمایہ کار نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور کاروبار اجڑ گئے، جب تک افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت بحال نہیں ہوتی، خیبرپختونخوا کے تاجر لاہور اور کراچی کے بڑے تجارتی مراکز کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

پی ٹی آئی رہنما نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں ایک نئی جنگ کی بنیاد رکھی جا رہی ہے، لیکن عوام اور صوبہ اب مزید جنگوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سیاسی و معاشی استحکام کے لیے امن کو ترجیح دی جائے اور عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائ

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان

تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان