یمن، ہمیشہ فلسطین و لبنان کے ساتھ کھڑا رہیگا، سربراہ انصار الله
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
عید الجلاء کی مناسبت سے اپنے ایک جاری بیان میں سید عبدالمالک الحوثی کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے اپنے 128 سالہ قیام کے دوران قتل، قحط اور بیماریوں کے پھیلاؤ سمیت وسیع پیمانے پر مظالم ڈھائے۔ اسلام ٹائمز۔ رواں شب یمن کی مقاومتی تحریک "انصار الله" کے سربراہ "سید عبدالمالک الحوثی" نے کہا کہ یمنی قوم، صیہونی جارحیت کے مقابلے میں کبھی بھی فلسطین، لبنان اور امت مسلمہ کو تنہاء نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم وعدہ الہی پر ایمان کی بنیاد پر صیہونی رژیم کے زوال پر محکم یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار یمن کے یوم آزادی "عید الجلاء" کے موقع پر ایک جاری بیان میں کیا۔ عید الجلاء، "عدن" سے آخری برطانوی فوجی کے انخلاء کی یاد دلاتا ہے۔ سید عبدالمالک الحوثی نے اس دن کی مناسبت سے یمنی عوام کو مبارک باد دی۔ انہوں نے اس موقع کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ دشمن نئی جارحیت کی تیاریاں کر رہا ہے، اس لئے یمنی عوام کو صنعاء میں السبعین اسكوائر پر جمع ہو کر اپنی تیاری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں سید عبدالمالک الحوثی نے یمن میں برطانوی استعمار کے تاریک دور کی جانب اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ بعض داخلی عناصر کی غداری نے برطانوی قبضے کو آسان بنایا اور برطانیہ نے اپنے 128 سالہ قیام کے دوران قتل، قحط اور بیماریوں کے پھیلاؤ سمیت وسیع پیمانے پر مظالم ڈھائے۔ انصار الله کے سربراہ نے استعمار برطانیہ کے خاتمے کے بعد، اسلامی ممالک کو تشکیل دینے میں مغرب کے مشکوک کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مغرب نے محکوم نظاموں اور مذہبی و ثقافتی دھاروں کو پیدا کر کے امت مسلمہ کی وحدت و آزادی میں رکاوٹ ڈالی، جس سے فلسطین اور خطے پر صیہونی تسلط کی راہ ہموار ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج فلسطین، لبنان، شام اور یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ مغربی استعماری پالیسیوں کا تسلسل ہے جسے اب امریکہ و برطانیہ کی حمایت سے صیہونی رژیم کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ سید عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ امریکی حمایت یافتہ اسرائیل، غزہ پر مکمل قبضہ، فلسطینیوں کو یروشلم و مغربی کنارے سے بے دخل کرنے اور لبنان و شام میں اپنے تسلط کو دمشق کے مضافات تک پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یمن میں انقلاب اسلامی کے روح رواں نے ان اقدامات کو "گریٹر اسرائیل" کے منصوبے کا حصہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس منصوبے کا حتمی مقصد خطے کے توازن کو بدلنا اور اسلامی ممالک کو صیہونی تسلط کے آگے جھکانا ہے۔ انہوں نے اس امر کی یقین دہانی کروائی کہ یمنی قوم اپنے تمام سرکاری اداروں اور مسلح افواج کے ساتھ فلسطینی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف، یمنی عوام کی ثابت قدمی و مزاحمت نے انہیں عالمی سطح پر ایک خاص مقام دلایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلسل اپنی عسکری و سیکیورٹی صلاحیتوں کو بڑھا رہے ہیں۔ ہم کبھی بھی جہاد اور مزاحمت کا راستہ ترک نہیں کریں گے۔ انصار الله کے سربراہ نے کہا کہ یمنی قوم، صاحبِ توحید و وقار ہے اسی لئے ہماری قوم کبھی بھی طاغوت کی ذلت اور غلامی قبول نہیں کرے گی۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید عبدالمالک الحوثی انہوں نے کہا کہ انصار الله
پڑھیں:
شام کو اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے کا پورا حق ہے، یمن
اپنے ایک جاری بیان میں انصار اللہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ تاریخ سے سبق نہیں لیتے اور اپنے دفاعی حق سے دستبردار ہو جاتے ہیں ان کا انجام بہت برا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یمن کی مقاومتی تحریک "انصار اللہ" کے پولیٹکل آفس نے اعلان کیا کہ وہ "دمشق" کے مضافات میں "بیت جن" پر صیہونی جارحیت کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے جاری بیان میں کہا کہ حالیہ صیہونی حملہ، شامی سالمیت کی واضح خلاف ورزی ہے جس کا مقصد قبضے کے دائرہ کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس علاقے کے باشندوں کی اسرائیلی فوجیوں کے خلاف شجاعانہ مزاحمت کو سراہتے ہیں۔ صرف جہاد اور مقاومت ہی دشمن سے نمٹنے کا ہتھیار ہیں۔ حملہ آوروں سے نرم رویہ ان کے تسلط پسندانہ منصوبوں کو نہیں روک سکتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ شام کو تمام موجودہ وسائل کے ساتھ صیہونی دراندازی کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔ تاہم جو لوگ تاریخ سے سبق نہیں لیتے اور اپنے دفاعی حق سے دستبردار ہو جاتے ہیں ان کا انجام بہت برا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ عرب اور اسلامی ممالک کو بھی ان حملوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے جو پوری امت اسلامیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔