ججوں کو قانون کی حکمرانی کے لیے مضبوط موقف اپنانا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کریں اور قانون کی حکمرانی کے لیے مضبوط موقف اختیار کریں۔
فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ججوں کو کبھی بھی کسی دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرنے چاہیے بلکہ ہمیشہ آئین کو بالادست تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ججوں کی توجہ اور توانائی کا محور صرف عوام کو انصاف کی بروقت اور مؤثر فراہمی ہونی چاہیے۔
ان کا مؤقف تھا کہ عدلیہ کا اصل معیار قانون کی حکمرانی اور سائلین کے حقوق کی حفاظت ہے، اور ججوں کو اپنے فیصلوں میں صرف اور صرف انصاف کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔