ججوں کو قانون کی حکمرانی کے لیے مضبوط موقف اپنانا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کریں اور قانون کی حکمرانی کے لیے مضبوط موقف اختیار کریں۔
فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ججوں کو کبھی بھی کسی دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرنے چاہیے بلکہ ہمیشہ آئین کو بالادست تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ججوں کی توجہ اور توانائی کا محور صرف عوام کو انصاف کی بروقت اور مؤثر فراہمی ہونی چاہیے۔
ان کا مؤقف تھا کہ عدلیہ کا اصل معیار قانون کی حکمرانی اور سائلین کے حقوق کی حفاظت ہے، اور ججوں کو اپنے فیصلوں میں صرف اور صرف انصاف کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔