ججوں کو قانون کی حکمرانی کے لیے مضبوط موقف اپنانا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کریں اور قانون کی حکمرانی کے لیے مضبوط موقف اختیار کریں۔
فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ججوں کو کبھی بھی کسی دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرنے چاہیے بلکہ ہمیشہ آئین کو بالادست تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ججوں کی توجہ اور توانائی کا محور صرف عوام کو انصاف کی بروقت اور مؤثر فراہمی ہونی چاہیے۔
ان کا مؤقف تھا کہ عدلیہ کا اصل معیار قانون کی حکمرانی اور سائلین کے حقوق کی حفاظت ہے، اور ججوں کو اپنے فیصلوں میں صرف اور صرف انصاف کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔