ججوں کو قانون کی حکمرانی کے لیے مضبوط موقف اپنانا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کریں اور قانون کی حکمرانی کے لیے مضبوط موقف اختیار کریں۔
فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ججوں کو کبھی بھی کسی دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرنے چاہیے بلکہ ہمیشہ آئین کو بالادست تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ججوں کی توجہ اور توانائی کا محور صرف عوام کو انصاف کی بروقت اور مؤثر فراہمی ہونی چاہیے۔
ان کا مؤقف تھا کہ عدلیہ کا اصل معیار قانون کی حکمرانی اور سائلین کے حقوق کی حفاظت ہے، اور ججوں کو اپنے فیصلوں میں صرف اور صرف انصاف کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’’جج کو اسٹریس لینا نہیں اسٹریس دینا چاہیے‘‘لاہور ہائیکورٹ جسٹس جواد حسن کا خطاب
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے کہا ہےکہ جج کو اسٹریس لینا نہیں اسٹریس دینا چاہیے۔
لاہور جوڈیشل اکیڈمی میں عدالتی فیصلوں کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال کے موضوع پر تقریب ہوئی جس سے جسٹس جواد حسن نے خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے سب سے مشکل کیس کیے، مجھے کبھی اسٹریس نہیں ہوا اور بہت سے سیاسی کیس بھی آئے مگر کبھی اسٹریس نہیں ہوا۔
جسٹس جواد کا کہنا تھا کہ جج کو اسٹریس لینا نہیں اسٹریس دینا چاہیے، جج کو کورٹ ہینڈلنگ اور اس کے فیصلوں سے پرکھا جاتا ہے لہٰذا تمام کورسز نئے آنے والے ججز کے لیے بہت ضروری ہیں۔
جاپانی وفد کی صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر سے ملاقات، افراد باہم معذوری کی فلاح پر پاک،جاپان تعاون بڑھانے پر اتفاق
انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں میں 60 فیصد کیسز غلط آتے ہیں، ہم نے وہ کورسز کرنے ہیں جو دنیا میں چل رہے ہیں، ہر ہائیکورٹ میں 30 سے 40 فیصد فیملی کیسز آتے ہیں، ہر جج پہلی سماعت پر کیس خارج کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
مزید :