چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا ملاقات سے گریز شہیل آفریدی کا منگل کو دھرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام آباد+راولپنڈی (وقائع نگار+اپنے سٹاف رپورٹر سے ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی، علیمہ خان اور وکلاء کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہماری شنوائی نہیں ہوئی، ہمیں چیف جسٹس کی طرف سے پیغام ملا میں آپ سے نہیں مل سکتا۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے قومی اسمبلی نہ سینٹ کا اجلاس چلنے دیں گے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ منگل کو ہائیکورٹ کے باہر بھی اور اڈیالہ جیل کے باہر بھی اکٹھے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی گورننس پر میں اپنی انتظامیہ سے رابطے میں ہوں۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبر پی کے نے غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ خیبر پی کے سے ملنے سے انکار کردیا۔ چیف جسٹس کسی سے ملاقات نہیں کر رہے، چیف جسٹس نے نہ ایڈووکیٹ جنرل نہ کسی وکیل سے ملاقات کی۔ قبل ازیں راولپنڈی میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کل عدالتی حکم کے باوجود مجھے، نہ دیگر رہنمائوں کو بانی سے ملنے دیا گیا۔ اس سے پہلے بانی کی بہنوں کو ملنے نہیں دیا گیا۔ یہ سب کچھ بانی کو توڑنے کے لیے کیا جا رہا ہے، بشری بی بی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے نے کہا کہ کل پورا دن، پوری رات اور پھر صبح ہوگئی، مجھے بانی پی ٹی آئی سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیر اعلی خیبرپی کے سہیل خان آفریدی نے جمعہ کی صبح اڈیالہ روڈ گورکھپور ناکے پر جاری دھرنا ختم کردیا اور واپس کے پی کے ہائوس اسلام آباد روانہ ہو گئے تھے۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ سربراہ تحریک تحفظ آئین محمود خان اچکزئی، مجلس وحدت المسلمین کے سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی خیبر پی کے نے کہا کہ چیف جسٹس
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔