ہیڈ کوچ پاکستان وائٹ بال ٹیم چھٹیوں پر اپنے وطن روانہ، سوشل میڈیا پر کیا بیان جاری کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
ہیڈ کوچ پاکستان وائٹ بال کرکٹ ٹیم مائیک ہیسن ٹرائی نیشن ٹی ٹوئنٹی سیریز کے خاتمے کے بعد چھٹیاں گزارنے اپنے وطن نیوزی لینڈ چلے گئے۔نیوزی لینڈ روانگی سے قبل سوشل میڈیا پر جاری بیان میں مائیک ہیسن کا کہنا تھا میرا چہرہ تھکا ہوا لیکن میں خوش ہوں، میں نیوزی لینڈ اپنے گھر واپسی کے لیے ایک لمبے سفر کا آغاز کر رہا ہوں۔مائیک ہیسن نے لکھا کہ میں اپنی فیملی کو مس کر رہا ہوں، چند ہفتے اپنے گھر گزاروں گا، فیملی کے ساتھ ساتھ میں گرم موسم بھی مس کر رہا ہوں۔ان کا کہنا تھا جیت کے ساتھ سیزن کے اختتام کی وجہ سے میں بہت خوش ہوں، لڑکوں نے بہت اچھا کھیلا۔آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان وائٹ بال ٹیم کی مصروفیات نہیں ہیں، پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ نے جنوری کے پہلے ہفتے میں 3 میچز کے لیے سری لنکا کا دورہ کرنا ہے۔آسٹریلیا کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا دورہ پاکستان جنوری کے آخری ہفتے میں شیڈول ہے اور آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کے بعد پاکستان ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے سری لنکا جائے گی۔یاد رہے کہ پاکستان نے گزشتہ روز سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے فائنل میں سری لنکا کو 6 وکٹوں سے شکست دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ