عمران خان سے ملاقات کیلئے سوشل میڈیا پر ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں: عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے خیبر پختونخوا حکومت کا رویہ افسوس ناک اور قابلِ مذمت قرار دیدیا۔ایک بیان میں وفاقی وزیراطلاعات نے سوال کیا کہ اگر یہ دھرنے دیتے رہے تو صوبے پر کون توجہ دے گا؟عطا تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت غیرقانونی مطالبات کررہی ہے، جیل مینوئل کے خلاف مطالبات کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ ہیں ، عمران خان نے ملکی معیشت کو تباہ کیا، پاکستان کو سفارتی محاذ پر تنہا کیا، کبھی کسی قیدی کو اتنی مراعات حاصل نہیں ہوئیں جتنی بانی پی ٹی آئی کو حاصل ہیں۔وزیراطلاعات نے کہا کہ بھارت اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ خیپر پختونخوا سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے دینے کی دھمکی دی ہے اور منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
یورپی پارلیمنٹ کی سوشل میڈیا کے استعمال کیلیے کم از کم عمر 16 سال تجویز
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برسلز: یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے استعمال کے لیے کم از کم عمر کی حد کے حوالے سے قرار داد منظور کر لی ہے، جس کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کم از کم عمر 16 سال تجویز کی گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی پارلیمنٹ میں قرار داد میں کہا گیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچے صرف والدین یا سرپرست کی اجازت کے ساتھ ہی سوشل میڈیا استعمال کر سکیں گے۔ تاہم، یورپی سطح پر ہر ملک کو یہ صوابدید حاصل ہوگی کہ وہ کم از کم عمر کی حد کو 13 سال تک مقرر کر سکے۔
اراکین پارلیمنٹ نے کہاکہ یہ قرار داد قانونی طور پر پابند نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی ملک میں براہِ راست پالیسی کا درجہ رکھتی ہے مگر اسے مستقبل کی قانون سازی اور یورپی یونین کے رکن ممالک میں بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دنیا کے دیگر ممالک میں بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے عمر کی حد مقرر کی جا چکی ہے۔ آسٹریلیا، فرانس، ڈنمارک اور ملائیشیا جیسے ممالک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے عمر کی کم از کم حد 15 سے 16 سال رکھی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو اشتہا انگیز مواد، جنسی جرائم، خطرناک کنٹینٹ اور سائبر کرائم سے محفوظ رکھنا ہے۔