پاکستان پیپلز پارٹی آج اپنا 58واں یوم تاسیس منا رہی ہے
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی آج اپنا 58واں یوم تاسیس منا رہی ہے جس کی مناسبت سے ملک بھر میں ضلعی سطح پر تقریبات کا انعقاد اور کراچی کے علاقے کورنگی میں مرکزی جلسہ ہوگا۔
کورنگی میں جلسے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، شہر کے مختلف اضلاع میں پارٹی پرچم لگا دیئے گئے ہیں، بلاول بھٹو اور پارٹی کے دیگر مرکزی و صوبائی رہنما جلسے سے خطاب کریں گے۔
30 نومبر 1967ء کو لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی، ذوالفقار علی بھٹو پارٹی کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے، ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ لگا کر پیپلز پارٹی نے عوام میں مقبولیت حاصل کی اور 1970ء کے عام انتخابات میں مغربی پاکستان میں شاندار کامیابی حاصل کی۔
پیپلز پارٹی نے اپنے 58 سالہ سیاسی سفر میں کئی نشیب و فراز دیکھے، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے ادوار میں پارٹی کو شدید مشکلات کا سامنا رہا، متفقہ آئین کی منظوری، جوہری پروگرام کی بنیاد اور صوبائی خود مختاری جیسے اہم کارنامے بھی پیپلز پارٹی کے کھاتے میں شامل ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے 58ویں یومِ تاسیس پر اپنے پیغام میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ اپنی پوری تاریخ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے ہر دور کے مرکزی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیشہ جدوجہد کی، جب پاکستان پر آمریت کا سایہ تھا، پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی مزاحمت کرنے والی پارٹی کے طور پر ڈٹ کر مقابلہ کیا اور عوامی حقوق کی بحالی کی جدوجہد کی قیادت کی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوری نظام کو مستحکم کرنے، اتحاد کو فروغ دینے اور سیاسی عمل کو درست راستے پر رکھنے کیلئے کام کیا ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان نے 1973ء میں متفقہ آئین حاصل کیا، ایک قومی میثاق جو آج بھی ہماری جمہوریت کی رہنمائی کر رہی ہے۔
صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد عام آدمی کو سیاست میں آنے کا موقع ملا، اس سے پہلے سیاست پر جاگیردار اور سرمایہ داروں کا ہی قبضہ تھا، یومِ تاسیس بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔
میئر کراچی اور ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا عوام سے رشتہ ہمیشہ سے مضبوط رہا ہے اور آئندہ بھی قائم رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان پیپلز پارٹی پیپلز پارٹی نے پارٹی کے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :