بھٹوز کے ویژن اور قربانیوں نے جمہوریت کی بنیاد مضبوط کی،صدر مملکت کاپارٹی کے یومِ تاسیس پر شہیدوں کوخراجِ عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سٹی42: صدرمملکت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مینٹور آصف علی زرداری نے کہا ہے پارٹی کے 58ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ہم اپنے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جن کے ویژن،عزم، ہمت اور قربانیوں نے پاکستان کی جمہوری بنیادوں کو مضبوط کیا اور کئی نسلوں پر اثر انداز ہوئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے اٹھاون ویں یومِ تاسیس پر اپنے پیغام میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کاکہناتھا کہ اپنی پوری تاریخ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے دور کے مرکزی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیشہ جدوجہد کی۔ جب پاکستان پر آمریت کا سایہ تھا، پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی مزاحمت کرنے والی پارٹی کے طور پر ڈٹ کر مقابلہ کیا اور عوامی حقوق کی بحالی کی جدوجہد کی قیادت کی۔ پارٹی نے ہمیشہ جمہوری نظام کو مستحکم کرنے، اتحاد کو فروغ دینے اور سیاسی عمل کو درست راستے پر رکھنے کے لیے کام کیا ہے۔
طیاروں کے سافٹ ویئر میں سنگین خرابی، عالمی پروازیں معطل
شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان نے 1973ء میں متفقہ آئین حاصل کیا، ایک قومی میثاق جو آج بھی ہماری جمہوریت کی رہنمائی کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کو وفاق کے استحکام، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں اصلاحات کے آغاز، ملک کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے اور زمین، مزدور،تعلیم اور سماجی انصاف سے متعلق تاریخی اصلاحات پر فخر ہے۔
تحریک بحالیِ جمہوریت (MRD) اور اتحاد برائے بحالیِ جمہوریت (ARD) سے لے کر چارٹر آف ڈیموکریسی، اٹھارویں ترمیم اور نیشنل ایکشن پلان تک، پیپلز پارٹی پاکستان کے جمہوری ارتقا میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہے۔اپنے آغاز سے ہی پاکستان پیپلز پارٹی مزدوروں، کسانوں، خواتین، اقلیتوں اور تمام پسے ہوئے طبقات کی آواز رہی ہے۔ ان کی شمولیت اور بااختیار بنانا ہماری سیاسی سمت کا تعین کرتا رہا ہے اور آج بھی ہمارے مشن کا مرکز ہے۔
اقرار الحسن وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں؟ شاید میں سیکنڈ لیڈی بن جاؤں: فراح اقرار
صدر مملکت نے اپنے پیغام میں کہا، آیئے آج کے دن ہم جمہوریت، سماجی انصاف، مساوات اور تمام شہریوں،خصوصاً خواتین اور اقلیتوں کو بااختیار بنانےکے عزم کو ایک بار پھر تازہ کریں، کیونکہ ان کی فعال شمولیت پاکستان کے پُرامن اور تکثیری مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔ تمام پارٹی کارکن اور سپورٹر جمہوری اتحاد کو برقرار رکھیں، وفاق کی حفاظت کریں اور ایک روادار اور ترقی پسند پاکستان کے لیے کام کریں۔
اب ہر شہری کا موبائل فون کیمرہ سیف سٹی کا کیمرہ بن سکے گا
ریمبو سے شادی نہ کروانے پر صاحبہ نے خودکشی کی دھمکی دی تھی، نشو بیگم
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت کی پارٹی کے کے لیے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔