سٹی42:  صدرمملکت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مینٹور  آصف علی زرداری نے کہا ہے پارٹی کے 58ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ہم اپنے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ  بینظیر بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جن کے ویژن،عزم، ہمت اور قربانیوں نے پاکستان کی جمہوری بنیادوں کو مضبوط کیا اور کئی نسلوں پر اثر انداز ہوئے۔ 

 پاکستان پیپلز پارٹی کے اٹھاون ویں یومِ تاسیس پر اپنے پیغام میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کاکہناتھا کہ اپنی پوری تاریخ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے دور کے مرکزی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیشہ جدوجہد کی۔ جب پاکستان پر آمریت کا سایہ تھا، پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی مزاحمت کرنے والی پارٹی کے طور پر ڈٹ کر مقابلہ کیا اور عوامی حقوق کی بحالی کی جدوجہد کی قیادت کی۔ پارٹی نے ہمیشہ جمہوری نظام کو مستحکم کرنے، اتحاد کو فروغ دینے اور سیاسی عمل کو درست راستے پر رکھنے کے لیے کام کیا ہے۔

طیاروں کے سافٹ ویئر میں سنگین خرابی، عالمی پروازیں معطل

 شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان نے 1973ء میں متفقہ آئین حاصل کیا، ایک قومی میثاق جو آج بھی ہماری جمہوریت کی رہنمائی کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کو وفاق کے استحکام، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں اصلاحات کے آغاز، ملک کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے اور زمین، مزدور،تعلیم اور سماجی انصاف سے متعلق تاریخی اصلاحات پر فخر ہے۔

تحریک بحالیِ جمہوریت (MRD) اور اتحاد برائے بحالیِ جمہوریت (ARD) سے لے کر چارٹر آف ڈیموکریسی، اٹھارویں ترمیم اور نیشنل ایکشن پلان تک، پیپلز پارٹی پاکستان کے جمہوری ارتقا میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہے۔اپنے آغاز سے ہی پاکستان پیپلز پارٹی مزدوروں، کسانوں، خواتین، اقلیتوں اور تمام پسے ہوئے طبقات کی آواز رہی ہے۔ ان کی شمولیت اور بااختیار بنانا ہماری سیاسی سمت کا تعین کرتا رہا ہے اور آج بھی ہمارے مشن کا مرکز ہے۔

اقرار الحسن وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں؟ شاید میں سیکنڈ لیڈی بن جاؤں: فراح اقرار

 صدر مملکت  نے اپنے پیغام میں کہا،  آیئے آج کے دن ہم جمہوریت، سماجی انصاف، مساوات اور تمام شہریوں،خصوصاً خواتین اور اقلیتوں کو بااختیار بنانےکے عزم کو ایک بار پھر تازہ کریں، کیونکہ ان کی فعال شمولیت پاکستان کے پُرامن اور تکثیری مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔ تمام پارٹی کارکن اور سپورٹر  جمہوری اتحاد کو برقرار رکھیں، وفاق کی حفاظت کریں اور ایک روادار اور ترقی پسند پاکستان کے لیے کام کریں۔

اب ہر شہری کا موبائل فون کیمرہ سیف سٹی کا کیمرہ بن سکے گا  

Caption شہید ذوالفقار اور ان کی بیٹی شہید رانی بینظیر بھٹو نے پاکستان کی سرف جمہوریت کی بنیادوں کو ہی خون دے کر پختہ نہیں کیا بلکہ دفاع کی بنیادیں بھی انہی نے رکھیں اور استوار کیں؛ شہید زیڈ اے بھتو ایتمی پروگرام پاکستان لائے اور شہید بی بی نے پاکستان کو میزائل پروگرام دیا۔

ریمبو سے شادی نہ کروانے پر صاحبہ نے خودکشی کی دھمکی دی تھی، نشو بیگم

Waseem Azmet.

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت کی پارٹی کے کے لیے

پڑھیں:

پیپلز پارٹی کی منفرد پالیسی

وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ نے کہا ہے کہ ریاستی ادارے نقصان میں ہیں اور پیپلز پارٹی کی پالیسی کے باعث نجکاری کا عمل آگے نہیں بڑھ رہا۔ پیپلز پارٹی نجکاری کے خلاف ہے اگر پی پی کو ناراض کیا جائے گا تو حکومت نہیں رہے گی۔

وفاقی وزیر کے اس بیان سے نقصان میں جانے والے سرکاری اداروں کی نجکاری میں رکاوٹ اور تاخیر کی وجوہات سامنے آگئی ہیں اور واضح ہو گیا ہے کہ موجودہ حکومت جس میں پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ پی پی موجودہ حکومت میں شامل نہیں ہے اور اس کی صرف حمایت کرتی ہے اور وہ حکومت کی نجکاری پالیسی کی بھی مخالف ہے اور اپنے منشور کے خلاف وہ مسلم لیگ (ن) کے کسی فیصلے کی کبھی حمایت نہیں کرے گی اور اپنی ہی پالیسی پر چلے گی اور وہ حکومت کا فیصلہ ماننے کی پابند نہیں ہے۔

 2008میں جب پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کو ساتھ ملا کر اپنی حکومت بنائی تھی جس کے بعد صدارتی انتخاب جنرل پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد ہوا تھا، اس میں وزارت عظمیٰ کے ساتھ ملک کی صدارت بھی اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر (ن) لیگ نے اختلاف کیا تھا اور وہ دونوں بڑے عہدے پی پی کو دینے کی حامی نہیں تھی اور شاید یہ عہدہ خود لینا چاہتی تھی مگر ایم کیو ایم نے آصف زرداری کو بطور صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا جن کے مقابلے میں (ن) لیگ نے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا مگر آصف زرداری خود کو صدر مملکت منتخب کرانے میں کامیاب ہو گئے تھے جس کے بعد انھوں نے میاں نواز شریف سے ججز بحالی کا جو معاہدہ کیا تھا، انھوں نے ججز کی بحالی سے انکار کر دیا تھا ۔

ججز بحالی نہ ہونے پر (ن) لیگ حکومت سے الگ ہوگئی تھی اور نواز شریف نے بحالی نہ ہونے پر تحریک کا اعلان کر کے لانگ مارچ شروع کر دیا تھا۔ کامیاب لانگ مارچ ابھی گجرانوالہ ہی پہنچا تھا کہ حالات کے باعث بعض قوتوں کو مداخلت کرنا پڑی اور وزیر اعظم گیلانی نے رات گئے ججز بحالی کا اعلان کیا ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے لندن میں میاں نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت کیا تھا، اس پر عمل کرتے ہوئے پی پی حکومت سے شدید اختلاف کے باوجود پہلی بار پی پی حکومت کے خلاف تحریک نہیں چلائی تھی اور پی پی حکومت نے پہلی بار مدت پوری کی تھی۔

پنجاب میں شہباز حکومت تھی جو صدر زرداری نے گورنر راج لگا کر ختم بھی کی تھی مگر عدالت عالیہ نے (ن) لیگی حکومت بحال کر دی تھی۔

2013 میں پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد دھرنے کے موقع پر نواز شریف کی حکومت کا ساتھ دیا تھا جس سے جمہوریت مستحکم ہوئی اور (ن) لیگی حکومت نے بھی پہلی بار اپنی مقررہ مدت پوری کی تھی اور (ن) لیگ اور پی پی کے شدید مخالف بانی تحریک انصاف 2018 میں اقتدار میں لائے گئے مگر اپنی غلط پالیسی کے باعث وہ اپریل 2022 میں انھیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے آئینی طور پر تحریک عدم اعتماد کے ذریعے برطرف کر دیا تھاجو ملک میں پہلی آئینی برطرفی تھی۔ 2008 کے بعد سے باہمی سیاسی مخالفت کے باوجود پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے اپنے اختلافات کو انتہا تک نہیں پہنچایا مگر 2017 میں پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ضرور ختم کرائی تھی اور چیئرمین سینیٹ مسلم لیگ کا نہیں آنے دیا تھا۔

بے نظیر بھٹو کے بعد آصف زرداری کی پالیسی کے باعث سندھ میں (ن) لیگ کو شدید نقصان بھی نواز شریف حکومت میں ہوا مگر دونوں پارٹیوں نے اپنی اپنی پالیسیوں پر عمل جاری رکھا اور باہمی اختلاف کو سیاسی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ آصف زرداری نے اپنی مفاہمانہ پالیسی کے تحت سندھ میں پیپلز پارٹی کو جو انتخابی کامیابی دلائی وہ نیا ریکارڈ ہے۔ بھٹو صاحب اور بے نظیر بھٹو کے دور میں بھی پیپلز پارٹی کو اتنی کامیابی نہیں ملی تھی جس کی وجہ سے سندھ میں 17 سال سے پی پی کی حکومت ہے۔

بھٹو حکومت میں ملک بھر میں ہزاروں چھوٹے بڑے نجی ادارے قومی تحویل میں لے کر قومی خزانے پر بوجھ بڑھایا گیا تھا جن میں جھوٹے چھوٹے چاول صاف کرنے کے کارخانے بھی شامل تھے جس سے بے حد کرپشن ہوئی تھی۔ پی پی کا موقف ہے کہ اس کے منشور میں لوگوں کو روزگار فراہم کرنا شامل ہے جس کے تحت وہ اپنے لوگوں کو اندھا دھند نوازتی ہے جس سے ہر سرکاری ادارے میں مقررہ تعداد سے زیادہ لوگ ملازمت حاصل کر لیتے ہیں جس کی ایک واضح مثال سندھ کے بلدیاتی ادارے ہیں جہاں یوسی تک میں اضافی عملہ موجود ہے اور ان کا بجٹ تنخواہوں میں خرچ ہو جاتا ہے اور تعمیری کاموں کے لیے رقم نہیں بچتی تو ترقیاتی کام کہاں سے ہوں اس کی پی پی کبھی فکر نہیں کرتی وہ صرف روزگار دینے پر یقین رکھتی ہے جب کہ (ن) لیگ کی پالیسی پی پی سے یکسر مختلف ہے۔

بے نظیر کی شہادت کے بعد پی پی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا تھا جس کا بجٹ پی پی پی نے (ن) لیگی حکومت سے ہر بار بڑھوایا جب کہ اس پروگرام سے غریبوں کو کم اور سرکاری افسروں و ملازموں کو زیادہ فائدہ ہوا اور کرپٹ افسروں نے اپنی بیگمات تک کو اس پروگرام سے مالی فائدہ پہنچایا اور زبردست کرپشن ہوئی۔اسٹیل ملز سالوں سے بند ہے۔ پی آئی اے اور دیگر ریاستی اداروں میں بے انتہا فاضل عملے نے ان اداروں کو مالی طور پر تباہ کر دیا ہے۔

(ن) لیگی حکومت نقصان میں جانے والے ریاستی اداروں کی نجکاری چاہتی ہے جو پیپلز پارٹی نہیں ہونے دے رہی بلکہ دباؤ ڈال کر (ن) لیگی حکومت سے ایسے فیصلے کرا لیتی ہے جو اس کے منشور کے بھی خلاف ہے مگر مجبور ہے کیونکہ ماضی کے مقابلے میں (ن) لیگی حکومت پی پی کی حمایت سے قائم ہے جو پی پی کو ناراض کرنے کی متحمل نہیں ہو رہی اور اقتدار میں رہنے کے لیے پی پی کی مکمل محتاج ہے اور سیاسی و ذاتی مفاد کے لیے دونوں بڑی پارٹیوں کو قومی مفاد کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اپنے ذاتی اور پارٹی کے سیاسی مفاد کو سب سے زیادہ ترجیح دیتی ہے اور اسی لیے نقصان میں جانے والے ریاستی اداروں کی نجکاری نہیں ہونے دے رہی جو قومی خزانے پر سفید ہاتھی بنے ہوئے ہیں مگر پی پی اپنے سیاسی مفاد کے لیے اپنی پالیسی پر چل رہی ہے اور اسے قومی نقصان کی کوئی فکر نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارےنظریےکی بنیادعوام کی خدمت ہے،بلاول زرداری
  • بلاول کی نوجوان اور متحرک قیادت میں پیپلزپارٹی نئے عوامی سفر کی جانب گامزن ہے، سعدیہ دانش
  • بلاول بھٹو کا اسرائیل کو بھی تسلیم کرنے کیلئے دو ریاستی حل کیلئے فیصلہ کن اقدامات پر زور
  • پیپلز پارٹی کی تاریخ قربانیوں اور شہادتوں سے بھری ہوئی ہے، وقار مہدی
  • عوام ہی پیپلز پارٹی کے اصل وارث ہیں، شیری رحمان
  • کراچی کومنصوبے کے تحت الطاف حسین کےحوالےکیاگیا، پھر ہیروئن، بھتہ، بوری بندلاشوں کادورآیا، شرجیل میمن
  • پیپلز پارٹی کا 58 واں یومِ تاسیس، ملک بھر میں ضلعی سطح پر جلسوں کا اعلان
  • نوجوان طبقہ ووٹ کے درست استعمال سے جمہوری عمل کو مضبوط بناسکتا ہے،مسعودقریشی
  • پیپلز پارٹی کی منفرد پالیسی