لندن والے بانی نے کراچی کو بوری بند لاشوں، بھتے کی پرچیوں کے سوا کچھ نہ دیا، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ کراچی کو منصوبہ بندی کے تحت الطاف نامی شخص کے حوالے کیا گیا، کراچی میں ہیروئن کلچر، بھتہ کلچر اور بوری بند لاش کلچر آیا لیکن اب کراچی کا کچرہ اٹھایا جا رہا ہے اور پانی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی کو منصوبہ بندی کے تحت الطاف نامی شخص کے حوالے کیا گیا اور لندن والے بانی نے کراچی کو اسلحہ، بوری بند لاشوں اور بھتے کی پرچیوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کی اقتدار میں آنے کی سوچ اور انداز الگ ہوتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری جب بھی وزیر اعظم بنیں گے تو عوامی طاقت سے بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کل پیپلز پارٹی کی بنیاد کو اٹھاون سال پورے ہو رہے ہیں پورے ملک میں 100 سے زائد جگہوں پر پیپلز پارٹی کے اجتماعات کیے جا رہے ہیں اور ملک بھر میں اسکرینوں کے ذریعے بلاول بھٹو کا خطاب براہِ راست نشر کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی سوچ ہمیشہ جمہوری رہی ہے پیپلز پارٹی کا بیانیہ اور جدوجہد ہمیشہ اس ملک کے لیے رہی ہے، ہمیں فخر ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کے کارکن ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ کس کی شیروانی بن رہی ہے، معلوم نہیں گورنر کی تبدیلی وفاقی حکومت کا معاملہ ہے۔ عمران خان سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کیا ہوا ہے، وہ جیل میں اچھا کھانا کھا رہے ہیں اور تمام سہولیات حاصل ہیں لیکن آپ شروع دن سے ملک کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں عمران خان پر جیل میں کوئی تشدد نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو منصوبہ بندی کے تحت الطاف نامی شخص کے حوالے کیا گیا، لندن والے بانی نے کراچی کو اسلحہ، بوری بند لاشوں اور بھتے کی پرچیوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ مزید کہا کہ کراچی میں ہیروئن کلچر، بھتہ کلچر اور بوری بند لاش کلچر آیا لیکن اب کراچی کا کچرہ اٹھایا جا رہا ہے اور پانی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کراچی میں نے کہا کہ کہ کراچی کراچی کو رہے ہیں
پڑھیں:
دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
سٹی 42:سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتےہوئے کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔
وزیر اعلی کے پی فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہو گئے ۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی فیکٹری ناکہ سے روانگی سے قبل میڈیا ٹاک میں کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔2026-27کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں،مطالبہ کے کہ کے پی حکومت بانی کی ہے۔کے پی عوام نے بانی کو ووٹ دیا وہ انکو چاہتی ہے ۔کے پی عوام چاہے گی کہ بجٹ بانی کی خواہشات کے مطابق بنے ۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بجٹ کے حوالے سے میری اور وزیر خزانہ سے ملاقات ہو تاکہ ان سے بجٹ کی اپروول لے سکیں۔ہم کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں،امید ہے اس دفعہ ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی،آج بھی بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔بانی نے کوئی جرم نہیں کیا،انکو اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔
پنجاب کی جعلی حکومت،جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی کی آنکھ میں مسئلہ ہوا،عوام میں تشویش ہے کہ بانی کی ملاقات بند ہے،وہ اندر کیا کر رہے ہیں کہ تمام چیزیں روکی ہوئی ہیں۔یہ کیوں ملاقات نہیں کروا رہے،کے پی سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے،میں نے ملاقات کا مطالبہ کرکےکوئی غلط ڈیمانڈ نہیں کی۔کے پی میں عوام نے بانی کو مینڈیٹ دیا یہ انکا حق ہے کہ بجٹ بانی کی مرضی کے مطابق ہو ۔ کے پی کا وزیر اعلی بانی تبدیل کر سکتے ہیں باقی کسی میں جرات نہیں،وہ ہلا بھی سکے ۔محسن نقوی سے ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی ۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،وہاں پر کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے اگر ہم ان سے لڑائی کریں ۔کسی کی خوشنودی کے لئے ان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں،
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
بجٹ میں بانی کی ہدایات کو شامل کیا گیا ہے،سوشل ویلفیئرتعلیم،صحت کو شامل کیا گیا ۔بانی نے کہا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے
2026میں پاکستان انکے مشورے پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں اسکی واہ واہ ہوتی ہے ۔ہر بندہ بولتا ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے میں نے وزیراعلی کے دروازے کھلے رکھے ہیں کرپشن کے ثبوت لائیں۔