پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا کی خراب صحت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاؤں پر مبنی ایک خط ارسال کیا ہے۔

80 سالہ خالدہ ضیا کافی عرصے سے متعدد سنگین بیماریوں میں مبتلا ہیں، جن میں دل کے امراض، ذیابیطس، گٹھیا، جگر کی خرابی (لِور سیروسِس) اور گردوں کے مسائل شامل ہیں۔ گزشتہ اتوار انہیں سانس لینے میں شدید دشواری کے بعد فوری طور پر ڈھاکا کے ایور کیئر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ مقامی اور غیر ملکی ماہرین کی زیر نگرانی کورونری کیئر یونٹ میں زیر علاج ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: خالدہ ضیا کو علاج کے لیے بیرون ملک منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل

اسپتال کے ذرائع کے مطابق ہفتہ کے روز ان کی حالت میں معمولی بہتری دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ان کی صحت اب بھی نازک بتائی جا رہی ہے، جبکہ گردوں کے انتہائی کمزور کام کرنے کی وجہ سے انہیں 4 دن مسلسل ڈائیلاسز کرنا پڑا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خط میں خالدہ ضیا کی شدید علالت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور پاکستان کی حکومت و عوام کی جانب سے ان کی صحت یابی کے لیے نیک خواہشات اور دعائیں بھیجیں۔

انہوں نے خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش کی ترقی میں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کے کردار کی بھی تعریف کی۔ وزیراعظم نے ان کی قوت و ہمت کے لیے دعا کی تاکہ وہ اپنی جماعت اور قوم کی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیے: خالدہ ضیا کی صحت انتہائی تشویشناک، بی این پی کی قوم سے دعا کی اپیل

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف خالدہ ضیا کو گلدستہ بھی بھیج چکے ہیں تاکہ ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا سکے۔ دوسری جانب، خالدہ ضیا کے خاندان اور بی این پی رہنماؤں کے مطابق ان کا علاج مسلسل جاری ہے، جبکہ بیرونِ ملک علاج سے متعلق کوئی بھی فیصلہ ان کی میڈیکل ٹیم کی سفارش پر کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش خالدہ ضیا شہباز شریف.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش خالدہ ضیا شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش کا اظہار کے لیے

پڑھیں:

پاکستان اور بحرین کے باہمی احترام و اعتماد کو معاشی تعاون میں بدلیں گے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بحرین آکر ایسا محسوس ہوا جیسے اپنے گھر آئے ہوں۔ بحرین کے فرمانروا اور ولی عہد کی محبت و عزت ناقابلِ فراموش ہے۔ انہوں نے پاک بحرین دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے باہمی احترام و اعتماد کو معاشی تعاون میں بدلیں گے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں کاروباری برادری سے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان اور بحرین کے تعلقات باہمی احترام اور اعتماد پر قائم ہیں اور وقت آگیا ہے کہ ان تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات بہترین ماحول میں ہوئے جس سے تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف سے بحرین کے وزیر داخلہ کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کی نوجوان ترین آبادی ہے، جس میں 60 فیصد نوجوان 15 سے 30 سال کے درمیان ہیں، اور ان نوجوانوں کو آئی ٹی،  اے آئی اور جدید مہارتوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بحرینی کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر نئی راہیں کھولنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزیراعظم نے پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ بحرین میں مقیم ایک لاکھ سے زائد پاکستانی ملک کا فخر ہیں، اور 484 ملین ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجنے میں ان کا کردار اہم ہے۔ پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کی بہترین سفیر ہے۔

محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان بحرین کے وژن اور ترقیاتی ماڈل سے سیکھنے کا خواہاں ہے اور پاکستان کے پاس وسائل، افرادی قوت اور اسٹریٹجک محلِ وقوع کے باعث وسیع مواقع موجود ہیں۔

مزید پڑھیں:بحرین ڈیفنس فورس کے چیف آف اسٹاف کا ایئر ہیڈکوارٹر اسلام آباد کا دورہ، دونوں ممالک کا دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

انہوں نے کہا کہ بحرین کی مالیاتی مہارت کے ساتھ مل کر دونوں ممالک بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے سرمایہ کاری کے مواقع کی جانب توجہ دلائی اور کہا کہ پاکستان زراعت، آئی ٹی، معدنیات، توانائی اور سیاحت میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتا ہے، اور بحرین کے سرمایہ کار پاکستان آئیں اور مشترکہ منصوبوں میں شامل ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ جلد حتمی مراحل میں داخل ہو جائے گا اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ خطاب کے آخر میں وزیراعظم نے معروف قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تیزی سے جانا ہے تو اکیلے جائیں، دور جانا ہے تو مل کر چلیں۔ یہ پاکستان اور بحرین کے مستقبل کے باہمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا بہترین فلسفہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بحرین بحرین کے فرمانروا پاکستان پاکستان اور بحرین پاکستانی کمیونٹی دارالحکومت منامہ وزیراعظم محمد شہباز شریف

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم شہباز شریف کا بنگلہ دیش کی سابقہ وزیراعظم کے نام خط، صحت یابی کی دعا
  • شہباز شریف نے لندن میں اپنا قیام بڑھا دیا
  • وزیراعظم کا لندن میں طبی معائنہ، قیام بڑھانے کا فیصلہ
  • وزیراعظم شہباز شریف کا لندن میں طبی معائنہ، قیام میں اضافہ
  • بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی طبیعت مزید بگڑ گئی
  • وزیراعظم شہباز شریف لندن پہنچ گئے
  • وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت
  • پاکستان اور خلیج تعاون کونسل میں جلد آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط ہوں گے: وزیراعظم
  • پاکستان اور بحرین کے باہمی احترام و اعتماد کو معاشی تعاون میں بدلیں گے، وزیراعظم شہباز شریف