وزیراعظم شہباز شریف لندن میں اپنے طبی معائنے کے سلسلے میں قیام بڑھا چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ ایک روز قبل نجی دورے پر برطانیہ پہنچے تھے، جہاں لوٹن ایئرپورٹ پر ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل اور ن لیگ کی مقامی قیادت نے ان کا استقبال کیا۔
لندن میں وزیراعظم کا طبی معائنہ مکمل ہوا اور اس دوران انہوں نے اپنے قیام کو ایک روز مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ ابتدائی طور پر ان کا چار روزہ نجی دورہ مکمل کر کے اتوار کو وطن واپسی کا پروگرام تھا، تاہم اب وہ پیر کی دوپہر لندن سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔

 

.

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

آزاد فلسطینی ریاست کا قیام  اور اسرائیلی جرائم پر جوابدہی ضروری ہے، وزیراعظم

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام  اور اسرائیلی جرائم پر جوابدہی ضروری ہے۔

عالمی یومِ یکجہتیِ فلسطین کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایک واضح اور دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی آزادی صرف ان کا  حق ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا مشترکہ فرض بھی ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں اس عزم کو دوبارہ دہرایا کہ پاکستان ایک آزاد اور مکمل خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد میں نہ صرف سیاسی طور پر بلکہ اخلاقی طور پر بھی ہمیشہ شریک رہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی عشروں سے ظالمانہ محاصرے، فوجی جارحیت اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان حالات نے ان کے حوصلے کو شکست دینے کے بجائے مزید مضبوط کیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غزہ میں ہونے والی تباہ کاریوں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لاکھوں شہریوں کی زندگیاں متاثر ہو چکی ہیں، جبکہ خواتین، بچوں اور نوجوانوں سمیت 70 ہزار سے زیادہ بے گناہ افراد شہید کیے جا چکے ہیں۔ پوری کی پوری بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹا دی گئیں، اسپتال اور تعلیمی ادارے کھنڈرات میں بدل گئے اور شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان حالات میں فلسطینی عوام کا ثابت قدم رہنا پوری دنیا کے لیے حوصلے اور مزاحمت کی ایک مثال ہے۔

اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں کو کھلی جنگی جارحیت اور نسل کشی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ان سنگین جرائم پر فوری اور شفاف جوابدہی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی عدالتوں اور متعلقہ اداروں کو اس صورتحال کا نوٹس لے کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مجرموں کو قانون کے مطابق کٹہرے میں لایا جا سکے۔

وزیراعظم نے دو ریاستی حل کے لیے ہونے والی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطحی کانفرنسوں اور غزہ امن منصوبے کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو اور اسرائیل کو تمام جارحانہ کارروائیاں بند کرنی ہوں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انسانی امداد بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہنا چاہیے تاکہ محصور لوگوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی انروا کی خدمات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ادارے پر کسی بھی قسم کا سیاسی دباؤ یا عملی رکاوٹ قابلِ قبول نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مغربی کنارے کی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں غیرقانونی یہودی بستیوں کی مسلسل توسیع مستقبل میں مزید بے چینی اور تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔

آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق 1967 کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، کے قیام کی غیرمشروط حمایت جاری رکھے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آج بھی اور ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا اور ان کے حقِ آزادی و وقار کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کا لندن میں طبی معائنہ، قیام بڑھانے کا فیصلہ
  • آزاد فلسطینی ریاست کا قیام  اور اسرائیلی جرائم پر جوابدہی ضروری ہے، وزیراعظم
  • آزاد فلسطینی ریاست اور اسرائیلی مظالم پر جوابدہی ناگزیر؛ عالمی یوم یکجہتی پر وزیراعظم کا پیغام
  • وزیراعظم شہباز شریف لندن پہنچ گئے
  • وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت
  • پاکستان اور بحرین کے باہمی احترام و اعتماد کو معاشی تعاون میں بدلیں گے: وزیراعظم شہباز شریف
  • پاکستان اور خلیج تعاون کونسل میں جلد آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط ہوں گے: وزیراعظم
  • پاکستان اور بحرین کے باہمی احترام و اعتماد کو معاشی تعاون میں بدلیں گے، وزیراعظم شہباز شریف
  • وزیرا عظم  کی بحری  بادشاہ  ولی  عہد  سے ملاقاتیں  ‘ دفاع  سمیت  مختلف  شعبوں  میں تعاون  بڑھانے  پر اتفاق  : تجارت  ڈبل  کر ینگے : شہباز  شریف