سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی کو منصوبہ بندی کے تحت الطاف حسین کے حوالے کیا گیا اور لندن میں مقیم بانی نے شہر کو اسلحہ، بوری بند لاشوں اور بھتے کی پرچیوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران شرجیل میمن نے کہا کہ کچھ لوگوں کے اقتدار میں آنے کے انداز اور سوچ مختلف ہوتے ہیں، اور بلاول بھٹو زرداری جب بھی وزیر اعظم بنیں گے تو عوامی طاقت سے اپنی حکومت قائم کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کل پیپلز پارٹی کے قیام کو 55 سال مکمل ہو رہے ہیں، اس موقع پر ملک بھر میں 100 سے زائد مقامات پر اجتماعات ہو رہے ہیں جبکہ بلاول بھٹو کا خطاب اسکرینوں کے ذریعے براہِ راست نشر کیا جائے گا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا بیانیہ ہمیشہ جمہوری رہا ہے اور اس کی جدوجہد ملک کے لیے رہی ہے، ہمیں فخر ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کے کارکن ہیں۔ عمران خان سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں مناسب سہولیات حاصل کر رہے ہیں، اور ان کے ساتھ کوئی تشدد نہیں ہو رہا، لیکن وہ ملک کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ کراچی میں الطاف حسین کے حوالے کیے جانے کے بعد ہیروئن، بھتہ اور بوری بند لاش کلچر پھیلا، لیکن اب شہر کی صفائی اور پانی کے منصوبوں پر کام جاری ہے، اور کراچی کو ترقی کی راہ پر لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: رہے ہیں

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت