افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے ویزے روک دیے، امریکی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
امریکی محکمہ خارجہ نے افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے تمام افراد کو ویزوں کا اجرا روک دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کو ایکس پر ایک پوسٹ میں تصدیق کی کہ محکمہ خارجہ نے افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے تمام افراد کے لیے ویزے کا اجرا روک دیا ہے۔
امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل قریب کے لیے پناہ کی تمام درخواستوں پر فیصلے بھی روک رہے ہیں۔
ادھر U.
ایجنسی ڈائریکٹر Joseph Edlow نے کہا کہ کسی بھی غیر ملکی کی جانچ پڑتال اور زیادہ سے زیادہ حد تک اسکریننگ کو یقینی بنانے تک تمام فیصلے روک دیئے گئے ہیں۔
اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ تیسری دنیا کے تمام ملکوں سے ہجرت کو مستقل طور پر روک دیا جائے گا۔ ایسے پناہ گزینوں کی قانونی شہریت منسوخ کر دیں گے جو داخلی امن کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
واضح رہے کہ بدھ کو وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنے والا شخص افغان شہری تھا جو 2021 میں ری سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت امریکا میں داخل ہوا تھا۔ اُس کی فائرنگ سے ایک نیشنل گارڈ ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔