تمام ترقی پذیر ممالک کیلیے امریکا کے دروازے بند،ٹرمپ نے امیگریشن مستقل روک دی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک+خبر ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر حملے کے بعد سخت ترین امیگریشن اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ تمام تھرڈ ورلڈ” ممالک سے ہجرت کو ’’مستقل طور پر معطل‘‘ کر رہے ہیں، جبکہ 19 ممالک سے تعلق رکھنے والے گرین کارڈ ہولڈرز کی فوری آڈٹ کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔یہ اعلان اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں 29 سالہ افغان نژاد رحمان اللہ لاکنوال نے 2 امریکی نیشنل گارڈز پر فائرنگ کی ہے ۔ حملے کے نتیجے میں 20 سالہ سارہ بیکسٹروم ہلاک اور دوسرا اہلکار شدید زخمی ہوا۔ٹرمپ نے اپنے سخت بیان میں سابق صدر جو بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ 2021ء میں افغانستان سے انخلا کے دوران بغیر مکمل جانچ پڑتال کے مہاجرین امریکا داخل ہوئے۔ پریس کانفرنس کے دوران جب ایک رپورٹر نے ان سے سوال کیا کہ مذکورہ حملہ آور کو ٹرمپ دور میں ہی ویزہ ملا تھا، تو ٹرمپ نے رپورٹر کو ’’احمق‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال کو مسترد کردیا۔صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ایسے تمام غیر شہریوں کے وفاقی فوائد ختم کریں گے، ایسے تارکینِ وطن کی شہریت منسوخ کریں گے جو امریکا کے لیے خطرہ سمجھے جائیں، اور ان تمام افراد کو ملک بدر کریں گے جو ’’مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتے‘‘۔امریکی حکام کے مطابق19ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کا مکمل سیکورٹی آڈٹ ایک ’’سخت اور جامع عمل‘‘ ہوگا۔ متاثرہ ممالک میں افغانستان، برما، چَیڈ، کانگو، ایران، لیبیا، صومالیہ، یمن، سوڈان، وینزویلا اور کئی افریقی و ایشیائی ریاستیں شامل ہیں۔واقعے کے بعد ملک میں سیکورٹی اور امیگریشن پالیسیوں پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ زخمی اہلکار اینڈریو وولف کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ روز واشنگٹن حملے میں زخمی ہونے والی خاتون گارڈ ہلاک ہوگئی جبکہ دوسرا شدید زخمی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں غیر قانونی طور پر آنے والے افراد مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کو حد میں رکھنے کے لیے جلد کارروائی کریں گے، کچھ دیر قبل مزید B2 طیاروں کا آرڈر دیا ہے۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر ہونے والی فائرنگ کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ واشنگٹن حکام کے مطابق امریکی اداروں نے مشتبہ حملہ آور اور اس سے منسلک افغان شہریوں کے گھروں پر چھاپے مار کر متعدد مقامات کی تلاشی لی ہے جبکہ ایف بی آئی نے ریاستِ واشنگٹن اور سان ڈیاگو میں کارروائیاںکرتے ہوئے کئی گھروں سے الیکٹرونک آلات، موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور آئی پیڈز تحویل میں لے لیے ہیں جن کا تکنیکی تجزیہ جاری ہے۔ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل کے مطابق گرفتار افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے رشتے داروں سے بھی تحقیقات کی گئی ہے، تاکہ حملے کی ممکنہ وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔اطلاعات کے مطابق رحمان اللہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ واشنگٹن میں مقیم تھا، 29 سالہ مشتبہ حملہ آور کی تصویر جاری کرتے ہوئے تصدیق کی گئی ہے کہ وہ ماضی میں افغانستان میں سی آئی اے کے لیے خدمات انجام دے چکا ہے۔سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف کے مطابق رحمان اللہ کو امریکا میں داخلے کی اجازت اسی پس منظر کی بنیاد پر دی گئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ نے رحمان اللہ کے مطابق کریں گے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔