امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ تمام تیسری دنیا کے ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر معطل کر دے گی۔

یہ اعلان انہوں نے وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والے اس حملے کے بعد کیا جس کا الزام انہوں نے بائیڈن دور کی امیگریشن اسکریننگ کی ناکامیوں پر لگایا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: افغان کمیونٹی میں غیریقینی صورتحال، ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں نے مشکلات بڑھا دیں

صدرٹرمپ نے کسی ملک کا نام نہیں لیا اور نہ یہ واضح کیا کہ وہ کن ممالک کو ’تیسری دنیا‘ قرار دے رہے ہیں یا ’مستقل معطلی‘ سے کیا مراد ہے۔

Trump has said he will permanently pause migration from all third world countries to allow the US to recover.

"Only reverse migration can fully cure this situation."

Come on, Australia. We need to do the same. pic.twitter.com/8yKE3pdCKh

— Kobie Thatcher (@KobieThatcher) November 28, 2025

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس فیصلے کا اطلاق سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں منظور ہونے والے کیسز پر بھی ہوگا۔

ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر لکھا کہ وہ تمام تیسری دنیا کے ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روکے رکھیں گے تاکہ امریکی نظام مکمل طور پر بحال ہو سکے۔

’بائیڈن کے دور میں ہونے والی تمام غیرقانونی منظوریوں کا خاتمہ کیا جا سکے، جن میں وہ بھی شامل ہیں جن پر ‘سلیپی جو بائیڈن’ کے آٹو پین کے دستخط تھےاور ہر اس شخص کو ملک بدر کیا جا سکے جو امریکا کے لیے اثاثہ نہ ہو۔‘

مزید پڑھیں:افغان شہری کی فائرنگ سے زخمی خاتون نیشنل گارڈ ہلاک، غیرقانونی تارکین وطن امریکا کیلیے خطرہ بنتے جارہے ہیں، ٹرمپ

انہوں نے کہا کہ وہ ’غیر شہریوں‘ کے تمام وفاقی فوائد اور سبسڈیز ختم کر دیں گے اور ایسے تارکینِ وطن کی شہریت منسوخ کریں گے جو داخلی امن کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے ایسے تمام غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا جو ریاست پر بوجھ ہوں، سیکیورٹی خطرہ ہوں یا مغربی تہذیب سے ہم آہنگ نہ ہوں۔

ٹرمپ کے یہ بیانات اس واقعے کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں ایک نیشنل گارڈ اہلکار وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ میں ہلاک ہوگئی تھیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق حملہ ایک افغان شہری نے کیا۔

مزید پڑھیں: وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل کر دیں

اس سے قبل محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے حکام نے بتایا کہ ٹرمپ نے بائیڈن دور میں منظور ہونے والے پناہ کے کیسز اور 19 ممالک کے شہریوں کو جاری کیے گئے گرین کارڈز کا وسیع جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔

امریکی حکومتی ریکارڈ کے مطابق مبینہ حملہ آور کو اس سال ٹرمپ کے دور میں اسائلم منظور کیا گیا تھا۔

29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال 2021 میں امریکا آیا تھا، جو بائیڈن انتظامیہ کے اس ری سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت قائم ہوا تھا جو اگست 2021 میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے نتیجے میں بنایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکا نے میانمار کے شہریوں کے لیے عارضی قانونی اسٹیٹس ختم کر دیا

اس اعلان سے قبل ایک الگ پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ افغانستان سے ’ہولناک‘ فضائی انخلا کے دوران ’لاکھوں افراد بغیر کسی جانچ پڑتال اور نگرانی کے امریکا میں داخل ہوئے‘۔

یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے بدھ کے روز افغان شہریوں سے متعلق تمام امیگریشن درخواستوں پر غیر معینہ مدت کے لیے کارروائی روک دی۔

ٹرمپ نے کہا تھاکہ ان اہداف کا مقصد غیر قانونی اور تخریبی آبادی میں بڑی کمی لانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی صدر امیگریشن تیسری دنیا ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر امیگریشن تیسری دنیا ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس تیسری دنیا وائٹ ہاؤس انہوں نے کے لیے کے دور

پڑھیں:

افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی

افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور

بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت