ایران نے 12 روزہ جنگ میں امریکا اور اسرائیل کو شکست دی، آیت اللہ خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
ایران نے 12 روزہ جنگ میں امریکا اور اسرائیل کو شکست دی، آیت اللہ خامنہ ای WhatsAppFacebookTwitter 0 28 November, 2025 سب نیوز
تہران:(آئی پی ایس) ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سرکاری ٹی وی پر اہم خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ اور لبنان کی مزاحمتی تحریکیں دراصل ایرانی تحریک کی اقدار اور اصولوں پر قائم ہیں، جنہوں نے خطّے میں ظلم کے خلاف مضبوط محاذ بنایا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ایرانی قوم نے حالیہ بارہ روزہ جنگ میں امریکا اور صیہونی رژیم کو واضح اور تاریخی شکست دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دشمن پوری تیاری کے ساتھ آیا شر پھیلایا لیکن آخرکار شکست کھا کر خالی ہاتھ واپس لوٹ گیا۔
سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت نے اس جنگ کے لیے بیس سال تک منصوبہ بندی کی تھی، لیکن ایرانی دفاعی نظام اور قومی مزاحمت کے سامنے وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کے دوران بھرپور کوشش کی لیکن انہیں اپنے اہداف میں ناکامی کے سوا کچھ نہ ملا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم کی استقامت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور علاقائی مزاحمتی قوتیں ایرانی نظریے سے تقویت پا رہی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر دھرنا ختم کر دیا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر دھرنا ختم کر دیا امریکی نیشنل گارڈز کی 20 سالہ زخمی خاتون اہلکار دم توڑ گئیں، صدر ٹرمپ سیکیورٹی فورسز کی ڈی آئی خان میں دہشتگردوں کیخلاف کارروائی، 22خوارج ہلاک سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز، سری لنکا نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنالی لگتا ہے قومی اسمبلی میں ہمارے دن تھوڑے رہ گئے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر افغانستان سے تاجکستان پر ڈرون حملہ، 3 چینی ملازمین ہلاکCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آیت اللہ خامنہ ای امریکا اور
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔