بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی طبیعت مزید بگڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی طبیعت مزید بگڑ گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز
ڈھاکہ (آئی پی ایس )بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی طبیعت مزید بگڑ گئی ہے، جس کے بعد ان کے اہلِ خانہ اور پارٹی رہنماوں نے عوام سے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 80 سالہ خالدہ ضیا کو 23 نومبر کو پھیپھڑوں کے انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے پر ہسپتال داخل کیا گیا تھا، پارٹی رہنماوں کے مطابق وہ اس وقت انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو)میں زیرِ علاج ہیں۔بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما مرزا فخرال عالمگیر نے 28 نومبر کی رات صحافیوں کو بتایا کہ ڈاکٹروں نے ہمیں آگاہ کیا ہے کہ ان کی حالت تشویش ناک ہے۔بی این پی کے کئی سینئر رہنما اور پریشان کارکنان سابق وزیر اعظم کی خیریت دریافت کے لیے مقامی ہسپتال پہنچ رہے ہیں۔خالدہ ضیا کو دل، جگر اور گردوں کے مسائل کا سامنا ہے، اس کے علاوہ انہیں شوگر، پھیپھڑوں کے مسائل اور آنکھوں کی بیماری کا بھی سامنا ہے۔
ان کے دل میں مستقل پیس میکر لگایا گیا ہے، اس سے قبل وہ پہلے دل کی شریانوں میں اسٹنٹس بھی لگوا چکی ہیں۔2008سے لندن میں مقیم خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے طارق رحمان نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر عوام سے اپنی والدہ کی صحت کے لیے دعا کی درخواست کی۔انہوں نے لکھا کہ ہم محترمہ بیگم خالدہ ضیا کے لیے آپ کی دعاں اور محبت پر دل سے شکر گزار ہیں، 60 سالہ طارق رحمان نے کہا کہ وہ حالات کے باعث وطن واپس نہیں آسکتے۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہر بیٹا اپنی ماں کے لمس کا خواہش مند ہوتا ہے، ویسے ہی میں بھی اس مشکل گھڑی میں اپنی والدہ کے پاس ہونا چاہتا ہوں، لیکن وطن واپسی کا فیصلہ نہ تو آسان ہے اور نہ ہی صرف میرا اپنا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایف بی آر نومبر میں ٹیکس وصول کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام ایف بی آر نومبر میں ٹیکس وصول کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے باخبر قیادت، قومی یکجہتی اور مربوط پالیسی سازی ضروری ہے، صدرمملکت گنے کی قیمتیں مقرر کرنے میں گٹھ جوڑ پر 10شوگر ملز کو شوکاز نوٹس جاری خیبر پختونخوا کودہائیوں سے جنگوئوں نے تباہ کیا، مزید لڑائی کی گنجائش نہیں ، اسد قیصر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی پاکستان میں آئینی ترامیم پر تنقید آئی جی اسلام آباد نے 20ہیڈ کنسٹیبلز کو اے ایس آئی کے عہدوں پر ترقی کی منظوری دیدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش خالدہ ضیا
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔