ایف بی آر نومبر میں ٹیکس وصول کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ایف بی آر نومبر میں ٹیکس وصول کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نومبر میں ٹیکس وصولی کا ماہانہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی نومبر کی کارکردگی سامنے آگئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ نومبر کے لیے ایک ہزار 34 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق نومبر میں 878 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ہوسکی۔ اور اس طرح نومبر کا ٹیکس وصولی کا شارٹ فال 156 ارب روپے رہا۔ ایک دن میں شارٹ فال میں تقریبا 5 ارب روپے کی کمی متوقع ہے۔دسمبر میں ٹیکس وصولی کا ہدف ایک ہزار 406 ارب روپے مقرر ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں ٹیکس وصولی 5 ہزار 83 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 4 ہزار 715 ارب روپے تھی۔حکام کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کو مجموعی طور پر 413 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ ٹیکس وصولی کے ہدف تک پہنچنے کے لیے آج بھی دفاتر کھلے رہے۔ ایف بی آر حکام ہدف تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے باخبر قیادت، قومی یکجہتی اور مربوط پالیسی سازی ضروری ہے، صدرمملکت سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے باخبر قیادت، قومی یکجہتی اور مربوط پالیسی سازی ضروری ہے، صدرمملکت گنے کی قیمتیں مقرر کرنے میں گٹھ جوڑ پر 10شوگر ملز کو شوکاز نوٹس جاری خیبر پختونخوا کودہائیوں سے جنگوئوں نے تباہ کیا، مزید لڑائی کی گنجائش نہیں ، اسد قیصر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی پاکستان میں آئینی ترامیم پر تنقید آئی جی اسلام آباد نے 20ہیڈ کنسٹیبلز کو اے ایس آئی کے عہدوں پر ترقی کی منظوری دیدی ملکی معاشی صورت حال کیسی ہے،وزارت خزانہ نے آوٹ لک رپورٹ جاری کردیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایف بی آر میں ٹیکس کا ہدف
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔