ایف بی آر نومبر میں ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل نہ کر سکا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ایک بار پھر ماہانہ ٹیکس ٹارگٹ پورا کرنے میں ناکام ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق نومبر میں 1,034 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں صرف 878 ارب روپے جمع ہوسکے، یوں ٹیکس وصولی میں 156 ارب روپے کا نمایاں شارٹ فال ریکارڈ کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہ کے اختتام پر ایک دن کی وصولیوں سے شارٹ فال میں تقریباً 5 ارب روپے تک کمی کی توقع ہے۔
دوسری جانب دسمبر کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف 1,406 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو گزشتہ مہینے کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں بھی ایف بی آر ہدف سے پیچھے ہے۔ جولائی تا نومبر مجموعی ہدف 5,083 ارب روپے تھا جبکہ وصولیاں 4,715 ارب روپے رہیں، جس کے نتیجے میں 413 ارب روپے کا مجموعی شارٹ فال سامنے آیا۔
ٹارگٹ کے حصول کے لیے ایف بی آر نے اپنے دفاتر آج بھی کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر ارب روپے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔