سعودی سرمایہ کاری اور آئی ایم ایف سے امید: ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: مالیاتی منڈیوں میں گزشتہ ہفتے بھی روپے نے اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی اور امریکی کرنسی کی قدر دباؤ میں رہتی نظر آئی۔
مارکیٹ کے حالات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس استحکام کی بنیاد کئی اہم مثبت عوامل پر رہی جنہوں نے طلب اور رسد کے توازن کو ملکی معیشت کے حق میں ثابت کیا۔ سب سے بڑا محرک ریکوڈک منصوبے کے لیے ایگزم بینک کی جانب سے 1.
اسی طرح سعودی عرب کی جانب سے 10 ارب ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری کی توثیق نے بھی زرمبادلہ مارکیٹ میں مثبت لہر پیدا کی۔ یہی وجہ ہے کہ پورے ہفتے کے دوران روپے کی قدر تیزی سے سنبھلتی رہی۔
ترسیلاتِ زر میں اضافے اور اسٹیٹ بینک کے بڑھتے ہوئے ذخائر نے بھی روپے کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ حکومت کی جانب سے برآمدی سیکٹر کو سہولت دینے کے لیے 2.5 فیصد ای ڈی ایس کے خاتمے کے فیصلے نے ایکسپورٹرز میں نئی توقعات پیدا کیں۔ تجارتی برادری کو امید ہے کہ اس رعایت کے بعد برآمدی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی جو مستقبل میں زرمبادلہ کے فلو کو مزید مضبوط کرے گی۔
فوڈ ایگ نمائش میں 641 ملین ڈالر کے برآمدی آرڈرز کا حصول بھی ڈالر کے مقابلے میں روپے کے استحکام کا ایک اہم پہلو رہا۔ اس کامیابی نے عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں اضافے کی جھلک دکھائی، جس کا اثر براہِ راست ملکی کرنسی کی قدر پر بھی پڑا۔
بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے درآمدی بل کم ہونے کی امید کو بڑھایا، جس سے مارکیٹ کی سمت مزید بہتر ہوئی۔ ساتھ ہی آئی ایم ایف کی جانب سے دسمبر میں اگلی قسط کی ممکنہ منظوری کی خبریں بازار میں اعتماد بڑھانے کا باعث بنیں۔
ماہرین کے مطابق یہ توقعات غیرملکی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرسکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی جانب سے
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔