data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251129-08-26
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت متحرک، مستحکم اور جامع کیپٹل مارکیٹ کے قیام کے لیے پْرعزم ہے۔ ان کے بقول جاری اسٹرکچرل اصلاحات نے کیپٹل مارکیٹ کی کارکردگی بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔وزیرِ خزانہ کی زیرِ صدارت وزارت خزانہ میں کیپٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ کونسل (سی ایم ڈی سی) کے افتتاحی اجلاس میں پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کو مضبوط اور وسعت دینے سے متعلق روڈ میپ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، سی ڈی سی، این سی سی پی ایل، پاکستان بزنس کونسل اور وزارتِ خزانہ کے نمائندوں نے شرکت کیں۔اجلاس میں کونسل کے ٹرمز آف ریفرنس اور مجموعی حکمتِ عملی پر غور کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی بہترین عملی نمونوں کو اپناتے ہوئے مارکیٹ کو وسیع، گہرا اور متنوع بنانے کے لیے منظم انداز میں پیش رفت ضروری ہے۔شرکاء نے چار اہم شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جن میں ریٹیل اور انسٹی ٹیوشنل سرمایہ کاروں کی شمولیت میں اضافہ، سرمایہ کاروں کی ضرورت کے مطابق متنوع سرمایہ کاری مصنوعات کی تیاری، بینکوں، بروکرز اور میوچل فنڈز جیسے مارکیٹ انٹرمیڈریز کے لیے سہولت کاری میں بہتری، اور سرمایہ کاروں و اجراء کنندگان کے لیے مراعاتی اقدامات شامل تھے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کیپٹل مارکیٹ کے لیے

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد