کوئٹہ میں ایک ملاقات کے موقع پر بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور اوچ گروپ آف کمپنیز کے مابین صوبے میں سرمایہ کاری سے متعلق باقاعدہ طور پر مفاہمتی یاداشت پر دسخط کئے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت بلوچستان اور جرمن کمپنی نے بلوچستان کے ضلع حب میں جرمن کمپنی کی جانب سے پانچ کروڑ ڈالر کی لاگت انرجی اینڈ آئل ریفائنری انفراسٹرکچر قائم کرنے کے معائدے کی مفاہمتی یاداشت پر دستخب کر لئے۔ آج کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور اوچ گروپ آف کمپنیز کے وفد کے درمیان کوئٹہ میں سرمایہ کاری سے متعلق ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور اوچ گروپ آف کمپنیز کے مابین صوبے میں سرمایہ کاری سے متعلق باقاعدہ طور پر مفاہمتی یاداشت پر دسخط کئے گئے۔ مفاہمتی یاداشت کے تحت جرمن کمپنی حب میں 50 ملین ڈالر کی لاگت سے انرجی اینڈ آئل ریفائنری انفراسٹرکچر قائم کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سرمایہ کاری کے لئے موزوں ترین خطہ اور مواقعوں کی سرزمین ہے۔ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیاں مقامی ہنرمند افرادی قوت کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ماہی گیری، سیاحت کانکنی اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقعے موجود ہیں، جو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے لئے بہترین مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ اور جرمن کمپنی اوچ  (AOCH GmBH)کے چیئرمین انڈریس امبریوین نے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مفاہمتی یاداشت پر میں سرمایہ کاری

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ