ایل ایس ایم سیکٹر اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا، وزارت خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزارت خزانہ کے مطابق نومبر میں مہنگائی کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ ہے، ایل ایس ایم سیکٹر اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ عوامی قرضہ 1371ارب روپے کم ہوگیا ہے۔
وزارت خزانہ نے ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی جس میں رواں ماہ مہنگائی کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی صورتحال محتاط طور پر مثبت دکھائی دے رہی ہے، خوراک کی قیمتوں اور زرعی آؤٹ پٹ پر دباؤ پڑا ہے اور صنعتی سرگرمیوں میں بتدریج بہتری جاری ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معاشی اصلاحات کے نفاذ سے اقتصادی سرگرمیوں میں استحکام ہے، فصلوں کا مجموعی منظرنامہ ملا جلا رجحان ظاہر کر رہا ہے اور مناسب زرعی ان پُٹس کی دستیابی سےصورتحال بہتر ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کے معاون اقدامات سے سپلائی میں بہتری متوقع ہے، اور ربیع سیزن کے دوران زرعی سپلائی کے استحکام کا امکان ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق معیشت بتدریج استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور ساختی اصلاحات کے عملی نتائج ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں جبکہ مالی نظم و ضبط میں بہتری اور محصولات میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومتی اخراجات میں محتاط حکمتِ عملی برقرار رہے گی، ترسیلات زر میں اضافہ، معاشی صورتحال مزید مستحکم دکھائی دے رہی ہے۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ایل ایس ایم سیکٹر اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ عوامی قرضہ 1371ارب روپے کم ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پانچ سال بعد پہلی بار ایک سہ ماہی میں قرض میں نمایاں کمی ہوئی اور مہنگے قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی سے مالی خطرات میں کمی کا امکان ہے جبکہ اقتصادی استحکام کے لیےحکومت کی حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا