سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے این ایچ اے افسران کو کرپشن الزامات پر ڈی چوک میں لٹکانے کا مطالبہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے این ایچ اے افسران کو کرپشن الزامات پر ڈی چوک میں لٹکانے کا مطالبہ کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 28 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)سینیٹ ذیلی کمیٹی مواصلات میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)افسران کو بدعنوانی اورکرپشن کے الزامات کی بنیاد پر ڈی چوک میں لٹکانے کا مطالبہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹر کامل علی آغا کی زیرِ صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا، سیکریٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے نے کمیٹی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔اجلاس میں این ایچ اے حکام نے بتایا کہ کیرج 3 منصوبہ بلیک لسٹ کمپنی کو دئیے جانے کے حوالے سے رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی گئی ہے، لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر نو منصوبے میں مبینہ بدعنوانی کے باعث چیئرمین این ایچ اے کو تبدیل کیا گیا ہے۔کمیٹی اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے استفسار کیا کہ این ایچ اے نے ایشیائی ترقیاتی بینک کو کیا لکھا ہے، ہمارے ساتھ اے ڈی بی کے ساتھ خط و کتابت شئیر کی جائے۔
جس پر این ایچ اے حکام نے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اس سارے معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے، اے ڈی بی نیا کنٹریکٹ دینے کا کہہ رہا ہے، اے ڈی بی نے ہمیں تحریری ہدایات نہیں دی ہیں۔جس پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ اس کمیٹی کے ساتھ غلط بیانی کی جا رہی ہے، نا اہل کمپنیوں کو ٹھیکا دے کر منصوبوں پر اخراجات میں کئی گنا اضافہ کیا جاتا ہے، این ایچ اے کا ایک جونئیر افسر چوری کا دفاع کر رہا ہے۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ڈائریکٹر روکیورمنٹ این ایچ اے کو نوکری سے فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ کمیٹی ارکان این ایچ اے کے خلاف پریس کانفرنس کریں گے، این ایچ اے افسران کو ڈی چوک پر لٹکا دینا چاہیے، ڈپٹی ڈائریکٹر این ایچ اے سکھر عبد الجبار شیخ لوگوں سے کمیشن مانگ رہا ہے، ڈپٹی ڈائریکٹر کہتا ہے چیئرمین اور سیکریٹری میری جیب میں ہیں۔
سینیٹر ضمیر گھومرو نے کہا کہ ادارے اپنی بدعنوانیوں پر پردہ ڈالتے ہیں تو آئی ایم ایف رپورٹس جاری کرتا ہے، ایک ہفتے میں این ایچ اے این ایکس سی سی کو ٹرانچے 3 منصوبے کا ٹھیکہ دینے کے حوالے سے فیصلہ کرے۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ہمیں افسوس ہے سابق چیئر مین این ایچ اے ماتحت افسران کی وجہ سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں،ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ مناسب خط و کتابت نہیں کی جا رہی ہے، نئے چیئرمین این ایچ اے کو ادارے کے کرپٹ مافیا کے خلاف ایکشن لینا ہوگا، این ایچ اے نے کیرج 3 کے بعد ایک اور قومی شاہراھ کی تعمیر نو کا منصوبہ بلیک لسٹ کمپنی کو دے دیا ہے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایم-5 کی تعمیر نو کا منصوبہ بھی اسی بلیک لسٹ کمپنی نے مکمل کیا ہے۔ سینیٹر ضمیر گھومرو نے کہا کہ این ایچ اے کے سب افسران پر توہین پارلیمنٹ کا ایکٹ لگائیں گے،ہماری رپورٹ جمع کراتے ہی سب افسران فارغ تصور ہوں گے۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پاک پی ڈبلیو ڈی کی طرح این ایچ اے کو بھی بند کر دینے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے پاس کمیٹی ارکان کا ایک وفد لے جاتے ہیں،این ایچ اے ایک مافیا بن چکا ہے، اسے بند کرنے کی سفارش کرنا ہوگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی قید سے رہائی کے بعد 3پاکستانی شہری وطن واپس پہنچ گئے بھارتی قید سے رہائی کے بعد 3پاکستانی شہری وطن واپس پہنچ گئے بانی پی ٹی آئی جیل میں بیٹھ کر حکومت کے خلاف تحریک چلانا چاہتے ہیں،رانا ثنا اللہ مصری وزیر خارجہ بھی دورہ پاکستان کیلئے تیار، رواں ہفتے اسلام آباد پہنچیں گے اڈیالہ جیل کے اطراف امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ، 5 اضافی پکٹس قائم افغانستان بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے، فیصل کریم کنڈی اے این پی کی 28 ویں ترمیم کی مشروط حمایت، خیبرپختونخوا کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کا مطالبہ کردیا ایچ اے کو ڈی چوک رہا ہے
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ