ملک میں سونے کی قیمت دو روز سے مستحکم
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمت دو روز سے مستحکم ہے اور فی تولہ اور 10 گرام کی نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج بھی فی تولہ سونا 4 لاکھ 38 ہزار 862 روپے پر برقرار ہے جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 3 لاکھ 76 ہزار 253 روپے رہی۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں استحکام دیکھا جا رہا ہے اور فی اونس سونا 4 ہزار 165 ڈالر کے برابر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر امریکی سینٹرل بینک فیڈرل ریزرو کی فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (FOMC) کے ممکنہ فیصلوں کے اثرات مارکیٹ پر واضح ہو رہے ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے اجلاس میں فیڈ فنڈ ریٹ میں کمی کی جائے گی، جس سے مالیاتی بہاؤ میں اضافہ ہوگا اور سونے کی خریداری میں اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فیڈ کے ممکنہ چیئرمین کیون ہیسٹ شرح سود میں کمی چاہتے ہیں تاکہ پیسے کا بہاؤ بڑھے اور سرمایہ کاری کی دلچسپی میں اضافہ ہو۔
اس توقع کے تحت سرمایہ کاروں نے سونے کی ابتدائی خریداری کی، جس نے ایک ماہ کے دوران قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کا اگلا اجلاس 9 اور 10 دسمبر کو متوقع ہے، جس کے فیصلے عالمی اور مقامی سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ویب ڈیسک
دانیال عدنان
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔