data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(بزنس رپورٹر) کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے فارما سیٹیکل اور صحت کے شعبے کی مصنوعات کی مارکیٹ کی موثر نگرانی کے لئے معلومات اور ڈیٹا کے تبادلے کو منظم اور مستقل شکل دینے کے لئے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے ہیں۔مفاہمتی یاداشت پر کمپٹیشن کمیشن کے ممبر سلمان امین اور ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ نے دستخط کیے۔ کمپٹیشن کمیشن کے ہیڈ آفس میں منعقدہ تقریب میں کمپٹیشن کمیشن کے ممبر سعید احمد نواز، ڈریپ کے ڈائریکٹر لیگل افیئرز عامر لطیف اور دونوں اداروں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔یہ ایم او یو دونوں اداروں کے درمیان بایمی تعاون کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت معلومات اور ڈیٹا کا تبادلہ، مشترکہ انفورسمنٹ، گمراہ کن اشتہارات، فارما سیکتر میں غیر منصفانہ مقابلے اور علاج و صحت سے متعلق مصنوعات اور اوور دی کاؤنٹر کیٹیگریز میں شفاف مارکیٹنگ کے دعوں کی نگرانی کو موثر بنایا جائے گا۔ اس فریم ورک میں ڈیجیٹل ڈیٹا شیئرنگ، اداراہ جاتی استعداد کار میں اضافہ، تحقیق اور پالیسی تجزیے میں تعاون بھی شامل ہے۔دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمیشن کے ممبر سلمان امین نے کہا کہ خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں آن لائن اشتہارات اور ای کامرس نے گمراہ کن اشتہار بازی کو بڑھا دیا ہے ، دونوں اداروں کی یہ شراکت داری صارفین کے تحفظ میں مدد دے گی۔ انہوں نے کہا کہ دواسازی کا شعبہ براہِ راست عوامی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے، اس لیے دونوں اداروں کا قریبی تعاون ضروری ہے تاکہ دواوں کی مارکیٹ میں شفافیت اور منصفانہ مقابلہ یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبیداللہ نے کہا کہ وفاقی ریگولیٹری ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرتے ہیں، لیکن ان کے مقاصد مشترکہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاماسیوٹیکل سیکٹر میں قیمتوں کو ڈیریگولیٹ کیا جا چکا ہے تاہم فارما کمپنیوں کو مارکیٹ کے اصولوں کی پاسداریی اور سپلائی سے متعلق چیلنجز مشترکہ نگرانی کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی ریگولیٹری نتائج کو بہتر بناتی ہے اور ضروری ادویات کی مناسب دستیابی اور منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانے میں مدد دیتی ہے۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کمپٹیشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن کے

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر