عوامی فلاح کیلئے کام کرنے والے ادارے حکومت کے حقیقی شراکت دار ہیں، نگران وزیر اعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
نگران وزیر اعلی ٰگلگت بلتستان یار محمد نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر معاشرے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس ریٹائرڈ یار محمد سے فلاح انسانیت ویلفیئر سوسائٹی گلگت بلتستان، استور کی مرکزی شوریٰ کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں سوسائٹی کے چیئرمین حبیب اللہ، ڈائریکٹر حفیظ، ایڈمن ہیڈ ریاض احمد، منیجر سعید الرحمن اور دیگر عہدیداران شامل تھے۔ وفد نے وزیر اعلیٰ کو عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران فلاح انسانیت ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے گلگت بلتستان میں جاری فلاحی سرگرمیوں، امدادی کاموں، اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر سوسائٹی کے اراکین نے وزیر اعلی کو ان کے سابقہ دور میں سوسائٹی کی فلاحی کوششوں میں دی گئی معاونت اور تعاون پر دلی شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ موجودہ دور حکومت میں بھی وزیر اعلیٰ اسی جذبے اور توجہ کے ساتھ فلاحی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ وزیر اعلی جسٹس (ر) یار محمد نے وفد کی آمد پر شکریہ ادا کیا اور فلاح انسانیت ویلفیئر سوسائٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی اور عوامی فلاح کے لیے کام کرنے والے ادارے حکومت کے حقیقی شراکت دار ہیں۔ انہوں نے سوسائٹی کو حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی اور کہا کہ فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر معاشرے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان وزیر اعلی کے ساتھ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔