قواعد نہ ہونے کے باوجود آئینی عدالت میں اعلی ترین تعیناتیوں کی منظوری، 8 سینئر عہدے تخلیق کر دیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
قواعد نہ ہونے کے باوجود آئینی عدالت میں اعلی ترین تعیناتیوں کی منظوری، 8 سینئر عہدے تخلیق کر دیے گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 30 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )ملک میں آئینی تشریح کے لیے حال ہی میں قائم کی گئی اعلی ترین عدالت، وفاقی آئینی عدالت نے بظاہر آئین کے آرٹیکل 208 کی شق کے تحت کچھ تقرریاں کی ہیں، جن میں بعض ملازمین کو وفاقی حکومت کی اسپیشل پروفیشنل پے اسکیل پالیسی میں رکھا گیا ہے۔
ایف سی سی کی جانب سے اس ہفتے کے اوائل میں جاری ایک نوٹیفکیشن جس کی منظوری چیف جسٹس امین الدین خان نے دی کے ذریعے 8 سینئر عہدے تخلیق کیے گئے ہیں، جن میں ایک بی ایس-22 کا اور 7 بی ایس-21 کے عہدے ہیں، اور ان سب کو ایس پی پی ایس میں رکھا گیا، ایس پی پی ایس۔I کے تحت تنخواہ کا پیکیج 15 لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک ہے، جو تقریبا ہائی کورٹ کے جج کی تنخواہ کے برابر ہے۔تاہم سروس قوانین سے واقف سینئر وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ ایف سی سی انتظامیہ نے تاحال آرٹیکل 208 کے تحت کوئی قواعد وضع نہیں کیے، لہذا مذکورہ آرٹیکل کی شق کے مطابق، وہ صرف سپریم کورٹ کے ان قواعد پر عمل کر سکتی ہے۔
جو سپریم کورٹ کے ملازمین اور افسران کی تقرری سے متعلق ہیں۔ایس پی پی ایس کے اسکیل بعض افسران کو دینا، جب کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے قواعد میں کوئی مماثل شق موجود نہیں، ایف سی سی کے افسران و ملازمین کی ملازمت کی شرائط و ضوابط کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا سکتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی ایف کی تعیناتی کا عمل شروع،قیاس آرائیں بے بنیاد ہیں،وزیر دفاع سی ڈی ایف کی تعیناتی کا عمل شروع،قیاس آرائیں بے بنیاد ہیں،وزیر دفاع آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدہ ہو چکا،جلد بورد منظوری دے گا: وزیر خزانہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو تبدیل کیے جانے کا امکان سیاسی اور غیر سیاسی ناموں پر مشاورت اقوامِ متحدہ کا ہولناک انکشاف: دو سال میں مغربی کنارے میں 1000 سے زائد فلسطینی شہید ایف سی ہیڈکوارٹر خودکش دھماکا؛ حملہ آور افغان شہری تھے، نادرا نے تصدیق کردی وزیراعظم کا لندن میں طبی معائنہ، قیام بڑھانے کا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
آغا سراج درانی کی بیٹی کی پاکستان واپسی کی درخواست منظور، عدالت میں پیش ہونے کا حکم
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی مرحوم کی صاحبزادی کو پاکستان واپسی کی درخواست پر ان کی 20 یوم کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عبد المبین لاکھو پر مشتمل آئینی بینچ کے روبرو سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی مرحوم کی صاحبزادی کی پاکستان واپسی کی درخواست کی سماعت ہوئی۔
نیب اور سرکاری وکلاء کی جانب سے درخواست کی مخالفت کی گئی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نہیں چاہتے کہ درخواستگزار یا مفرور ملزم پاکستان واپس آئے۔ جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان آنے پر اسے احتساب عدالت میں پیش ہونا ہے، پھر عدالت جو چاہے قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ ضمانت کیلیے آئینی بینچ سے کیوں رجوع کیا گیا، ریگولر بینچ سے کیوں نہیں۔
درخواستگزار کے وکیل عامر رضا نقوی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ ہائیکورٹس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561 کے اختیارات عمومی طور پر آئین کے آرٹیکل 199 میں استعمال کرتی ہیں۔ آئینی بینچ کو بنیادی حقوق کے اختیارات کے ساتھ ساتھ ریگولر بینچ کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔
جسٹس عبد المبین لاکھو نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نے درخواستگزار کے ٹکٹ کی کاپی پیش نہیں کی کہ وہ کہاں سے اور کب آنا چاہتی ہیں۔ عامر رضا نقوی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ درخواستگزار امریکہ میں ہیں، متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کیلیے 8 سے 10 ہفتوں کی مہلت دی جائے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اتنی طویل مہلت نہیں دی جاسکتی، درخواستگزار آنا چاہتی ہیں تو کچھ تیاری کی ہوگی۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ دسمبر میں ٹکٹس مہنگے ہوتے ہیں اور سیٹیں بھی دستیاب نہیں ہوتیں۔ آئینی بینچ نے صنم درانی کی 20 یوم کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔