data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی خاتون رہنما نے پاکستان دشمن میڈیا پر عمران خان سے متعلق گھٹیا مہم چلوائی۔سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ طرزِ عمل کھلی پاکستان دشمنی ہے، کیونکہ اس سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ تحریکِ انصاف کو چاہیے کہ ملک دشمن بیانیے اور غلط ترجیحات ترک کر کے اب ریاست اور عوام کے مفاد کو مقدم رکھے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریکِ انصاف، بشمول خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایسا سیاسی طرزِ عمل اپنایا ہے جس میں صوبے کے عوام کو گورننس دینا پسِ پشت چلا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان سب کی پوری توجہ ایک غیر قانونی مطالبے پر مرکوز ہے کہ کرپشن کے کیس میں اڈیالہ جیل میں سزا کاٹنے والے بانی سے ہی سیاسی رہنمائی لی جائے جو کہ جیل رولز کے خلاف ہے۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا ایک اہم صوبہ ہوتے ہوئے بجائے اس کے کہ صوبائی حکومت اپنی ترجیحات امن، ترقی اور عوامی ریلیف پر رکھتی، اس جماعت کی قیادت دن رات اسلام آباد میں اسی غیر قانونی بیانیے کے گرد سیاست گھماتی رہی۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا

پڑھیں:

شہید ابو علی کا راستہ جاری رہے گا، حزب اللہ

پارلیمنٹ میں مزاحمت کے پارلیمانی بلاک کے سینئر رکن حسن عزالدین نے گزشتہ شب لبنان کی موجودہ صورتحال اور جاری صہیونی جارحیت کے حوالے سے کہا کہ ہم اس مجرمانہ دشمن کی حقیقت سے پوری طرح واقف ہیں، وہ اپنی کارروائیوں میں فوجی اور عام شہری کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا، شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرتا ہے، بے گناہ شہریوں کو قتل کرتا ہے، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب‌ اللہ کے سینئر رکن حسن عزالدین نے کہا ہے کہ صہیونی دشمن کے لبنان پر تمام حملے امریکی اجازت اور ہم آہنگی سے ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بیروت کے ضاحیہ علاقے پر جارح صہیونی فوج کا وحشیانہ حملہ پورے لبنان پر حملہ تھا، اور مزاحمت شہید ابو علی اور اپنے تمام شہداء کے راستے کو آگے بڑھائے گی۔ 

لبنان کی پارلیمنٹ میں مزاحمت کے پارلیمانی بلاک کے سینئر رکن حسن عزالدین نے گزشتہ شب لبنان کی موجودہ صورتحال اور جاری صہیونی جارحیت کے حوالے سے کہا کہ ہم اس مجرمانہ دشمن کی حقیقت سے پوری طرح واقف ہیں، وہ اپنی کارروائیوں میں فوجی اور عام شہری کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا، شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرتا ہے، بے گناہ شہریوں کو قتل کرتا ہے، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔

انہوں نے ایک تعزیتی تقریب میں کہا کہ ہم نے ان تمام مظالم کو قریب سے دیکھا ہے، اور سب نے اپنی آنکھوں سے صہیونیوں کی یہ درندگی ملاحظہ کی ہے؛ خاص طور پر حالیہ غزہ کے واقعات کے بعد، جو انسانیت کے لیے شرم کا مقام ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صہیونی دشمن کسی پابندی کے بغیر، اور ایسی صورتحال میں کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے خاموش ہیں، انسانوں کے ساتھ اعداد و شمار کی طرح سلوک کرتا ہے اور کسی بھی جرم سے دریغ نہیں کرتا۔

حسن عزالدین نے بیروت کے جنوبی ضاحیہ پر صہیونی حملے، جس میں حزب‌اللہ کے سینئر کمانڈر سید ہيثم علی طباطبائی (ابوعلی) شہید ہوئے، ان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ مکمل جارحیت اور کھلی دہشت گردی تھی، یہ حملہ صرف حزب‌اللہ یا اس کی قیادت کو نہیں بلکہ پورے لبنان کو نشانہ بنا کر کیا گیا، کیونکہ اس میں لبنانی شہری بھی زد میں آئے۔

انہوں نے کہا کہ جب لبنانی شہری صہیونی حملوں کا نشانہ بنتے ہیں تو ان کا ایک ریاست بھی ہے جس کا فرض ہے کہ ان کی حفاظت کرے، سب جانتے ہیں کہ اسرائیل بغیر امریکی اجازت کے کوئی کارروائی نہیں کرتا۔ اصل میں امریکہ اس کو مکمل آزادی دیتا ہے اور اس کا ایجنڈا طے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دشمن لبنان کی مزاحمتی قوت کو کمزور کر سکے، تو وہ ہمارے ملک پر حملہ کرے گا—یہ حملہ اسی نام نہاد “گریٹر اسرائیل” منصوبے کا حصہ ہے جسے نتن یاہو نے خود ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2000 میں جب لبنانی مزاحمت نے صہیونیوں کو ذلت کے ساتھ لبنان سے نکالا، اور 2006 میں گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو ناکام بنایا، تب سے اسرائیل ہر موقع پر لبنان سے انتقام لینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم نے حالیہ لڑائی میں اپنے بہت سے کمانڈروں اور مجاہدین کو کھویا ہے، لیکن ہم شکست نہیں کھائے اور نہ ہی کبھی تسلیم کریں گے۔ آج کوئی بھی ہمیں کمزور نہیں سمجھ سکتا، اور ہم کسی کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم لبنان میں ایک حقیقی قوم، ایک منصف اور طاقتور ریاست کی بنیاد رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسی ریاست جو اپنے عوام اور ملک کا دفاع کر سکے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ صہیونی دشمن آج جو دباؤ لبنان پر ڈال رہا ہے، وہ اس کی اگلی ناکامیوں کی تلافی کی کوشش ہے، کیونکہ پانچ فوجی ڈویژنز کے ساتھ زمینی جنگ میں بھی وہ کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مجاہدین نے جس طرح دشمن سے لڑائی کی ہے، تاریخ اسے سنہری حروف میں لکھے گی، امریکہ اب صہیونیوں کو کوئی کامیابی دلانے کے لیے، فوجی راستے میں ناکامی کے بعد، لبنان پر سیاسی، اقتصادی اور مالی دباؤ ڈال رہا ہے، جس کا مقصد پورے لبنان کو جھکانا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ مزاحمت جس سے شہید طباطبائی وابستہ تھے، اس نے دشمن کے تمام منصوبوں کو ناکام کیا ہے، باوجود اس کے کہ ہم نے شدید تکلیف اور مشکلات برداشت کیں، ہم قائم ہیں۔ ہمارے عظیم شہداء کا راستہ ہمارے کندھوں پر امانت ہے، اور ہم سب پر لازم ہے کہ اس راستے کو جاری رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹک ٹاک حکومت عوامی مسائل سے لاتعلق ہے، عطا تارڑ کی کے پی حکومت پر کڑی تنقید
  • پی ٹی آئی ملک دشمن بیانیہ ترک، ریاستی و عوامی مفاد مقدم رکھے: عطاء تارڑ
  • عطا تارڑ کا پی ٹی آئی کی سیاسی حکمتِ عملی پر تنقید
  • پی ٹی آئی ملک دشمن بیانیہ ترک کر کے ریاست و عوام کا مفاد مقدم رکھے: عطاء اللہ تارڑ
  • پی ٹی آئی کے طرزِ عمل سے صوبے کی گورننس پسِ پشت چلی گئی، عطا تارڑ
  • عطا اللہ تارڑ کا پی ٹی آئی کو تنقیدی پیغام: ملک اور عوام کے مفاد کو ترجیح دیں
  • پی ٹی آئی ملک دشمن بیانیہ اور غلط ترجیحات ترک کرکے ریاست اور عوام کا مفاد مقدم رکھے، عطا تارڑ
  • عظیم لیڈر کو مکمل تنہائی میں رکھنا بدترین سیاسی انتقام ہے‘حلیم عادل
  • شہید ابو علی کا راستہ جاری رہے گا، حزب اللہ