میڈیا سے گفتگو کے دوران مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی تقسیم کے افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں، نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنو اور اسی سے نکال دو، پاکستان اور سندھ کے مفاد کے خلاف کچھ بھی پیپلز پارٹی قبول نہیں کرے گی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کی تقسیم کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی تقسیم کے افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ 2 روزہ دورے پر بھان سید آباد پہنچ گئے، وزیراعلیٰ سندھ کراچی سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بوبک ایئرپورٹ پہنچے۔ کمشنر حیدرآباد اور ڈی آئی جی حیدرآباد نے وزیر اعلیٰ سندھ کا استقبال کیا، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ شہباز ایئرپورٹ سے گاؤں مناہیوں روانہ ہوئے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے چیف شمن رہپوٹو سے ان کے بھتیجے کے انتقال پر تعزیت کی اور وہ پریس کلب بھان سید آباد پہنچے جہاں انہوں نے سینئر صحافی آدم مینگل سے ان کی بہن کے انتقال پر تعزیت کی۔ بھان سعید آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی تقسیم کے افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں، نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنو اور اسی سے نکال دو۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ اس ایشو پر آپ لوگوں کو پریشانی کیا ہے، ہم میں سے کوئی ایک بھی اس پر راضی نہیں، پاکستان اور سندھ کے مفاد کے خلاف کچھ بھی پیپلز پارٹی قبول نہیں کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گورنر کی تقرری کا صوابدید اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے، صوبائی حکومت کا اس معاملے میں کوئی کردار ہے، گورنروں کی تقرری میں ہم سے مشورہ نہیں کیا جاتا۔ علاوہ ازیں، وزیراعلیٰ سندھ یوسی بوبک کے چیئرمین مخدوم ضمیر حسین کی دعوت پر بھی شرکت کریں گے اور رہائش گاہ وہاڑ میں قیام کریں گے جب کہ اتوار کی صبح وہاڑ میں حلقے کےعوام سے ملاقات کریں گے۔ اس سے قبل، کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کے علاوہ کسی میں طاقت نہیں کہ سندھ کو پاکستان سے الگ کرسکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مراد علی شاہ کی تقسیم اور سندھ

پڑھیں:

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.

???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS

— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026

تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی

اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری