توانائی بخش مشروبات نے صحت چھین لی
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روس میں ایک 22 سالہ نوجوان سے انرجی ڈرنک کے بے تحاشا استعمال نے زندگی کو ناقابل یقین نقصان پہچا دیا۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ کا رہائشی آرٹیم کمپیوٹر گیمز کا شوقین تھا اور جاگتے رہنے کے لیے توانائی بخش مشروبات پیتا تھا۔ابتداء میں وہ روزانہ ایک بوتل پیتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ اس کی عادت بڑھ گئی اور وہ خالی پیٹ تین سے پانچ بوتلیں پینے لگا۔ ایک دن شدید پیٹ درد، الٹی اور متلی کی تکالیف کے سبب اسے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے پینکریاٹائٹس (لبلبے کی سوزش) کی تشخیص ہوئی۔ علاج کے بعد بھی بیماری دوبارہ لوٹ آئی اور لبلبے میں ایک سسٹ (تھیلی) بن گئی۔تیسری بار اسپتال جانے پر صورتحال خطرناک حد تک خراب ہو گئی۔ لبلبے میں پیورلینٹ نیکروسس (گندے سوجن والے ٹشوز) پیدا ہو گئے، جسم میں زہر پھیلا اور آرٹیم کی ٹانگیں مفلوج ہوگئیں۔ اب وہ بحالی کے عمل سے گزر رہا ہے اور دوبارہ چلنے کی تربیت لے رہا ہے۔ماہرین، انرجی ڈرنکس سے متعلق خبردار کرتے ہیں کہ ان مشروبات کا زیادہ استعمال (خاص طور پر خالی پیٹ) لبلبے، دل اور خون کی شریانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔