یورپی یونین کے وفد کا PUWF کراچی دفتر کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یورپی یونین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے گزشتہ دنوں پاکستان یونائٹیڈ ورکرز فیڈریشن (PUWF) کے کراچی دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فیڈریشن کی قیادت سے ملاقات کی اور پاکستان میں ٹریڈ یونین تحریک کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔
وفد نے PUWF کے صدر مختار حسین اعوان، چیئرمین وقار میمن اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل اسد میمن سے اہم ملاقات کی۔ اس دوران وفد کو پاکستان میں مزدور تنظیموں کے طریق کار، موجودہ صورتحال اور ان مشکلات کے بارے میں آگاہ کیا گیا جن کا ٹریڈ یونینز کو سامنا ہے۔
صدر PUWF مختار حسین اعوان نے وفد کو بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں مزدور تحریک مضبوط جذبے کے ساتھ سرگرم ہے، مگر قانونی پیچیدگیاں، ملازمت کے عدم استحکام اور تنظیمی رکاوٹیں مزدور طبقے کو شدید متاثر کرتی ہیں۔ وفد نے ان کی گفتگو میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور مزدوروں کے حقوق کے لیے ان کی کاوشوں کو سراہا۔
چیئرمین PUWF وقار میمن نے گفتگو میں کہا کہ یورپی یونین کا یہ دورہ پاکستان کے مزدور طبقے کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہماری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ مزدوروں کی آواز حقیقت کے ساتھ عالمی سطح تک پہنچائی جائے۔ آج کا یہ رابطہ ہمارے مؤقف کی مضبوطی اور ہماری مسلسل جدوجہد کی کامیابی ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ PUWF مزدوروں کے حق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتا رہے گا۔
یورپی یونین کے نمائندوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ پاکستان میں ٹریڈ یونینز کو درپیش مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کریں گے اور مزدوروں کے حقوق کے فروغ کے لیے تعاون کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔ملاقات مثبت اور تعمیری ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جبکہ PUWF کی قیادت نے امید ظاہر کی کہ یہ بین الاقوامی رابطے مستقبل میں مزدور طبقے کے لیے نئی راہیں کھولنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یورپی یونین پاکستان میں کے لیے
پڑھیں:
بھارتی وفد آکسفورڈ یونین کے مباحثے سے بھاگ گیا ‘ پاکستان کی فتح
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں علمی میدان میں بڑی فتح نصیب ہوئی اور آکسفورڈ یونین کے تصدیق شدہ مباحثے سے بھارتی وفد کے ارکان جنرل ایم ایم نروانے، ڈاکٹر سبرامنیم سوامی اور سچن پائلٹ عین وقت پر دستبردار ہو گئے۔ پاکستان ہائی کمشن لندن کے مطابق بھارتی وفد کی اجتماعی پسپائی کے بعد پاکستان کو آکسفورڈ یونین میں بلامقابلہ فتح مل گئی ہے۔ آکسفورڈ یونین کے تصدیق شدہ مباحثے سے بھارتی وفد کے عین وقت پر دستبردار ہونے سے بھارت کو نہ صرف عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ یہ ثابت ہوا کہ وہ پاکستان کا کسی بھی میدان میں مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ پاکستانی ہائی کمشن کے مطابق اس وقت جنرل (ر) زبیر محمود حیات، حنا ربانی کھر سابق وزیر خارجہ اور ڈاکٹر محمد فیصل مباحثے کے لیے لندن میں موجود ہیں جبکہ بھارتی وفد مباحثے میں حاضری کی ہمت نہیں کر سکا۔ پاکستان ہائی کمشن لندن کے مطابق اپنے مصدقہ سپیکرز کے انکار کے بعد بھارتی جانب سے چند غیر معروف اور کم درجے کے مقررین کی پیشکش کی گئی جو پاکستانی وفد کے معیار کے مطابق نہ تھی۔ آکسفورڈ یونین میں اعلان شدہ بھارتی پینل کو کم تر متبادل سے بدلنے کی کوشش نے مباحثے کی ساکھ اور توازن کو شدید متاثر کیا۔ بھارت کے اعلیٰ سطحی مقررین کی دستبرداری اور کم تر متبادل کی پیشکش نے آکسفورڈ یونین اور جامعہ آکسفورڈ دونوں کو سخت خفت سے دوچار کیا۔ قرارداد یہ تھی کہ بھارت کی پاکستان پالیسی محض عوامی جذبات بھڑکانے کی حکمت عملی ہے، بھارتی مقررین نے اسی بحث سے راہ فرار اختیار کی۔ بھارتی وفد کی دستبرداری نے آکسفورڈ یونین جیسے غیرجانبدار فورم پر بھارتی بیانیے کی کمزوری بے نقاب کر دی۔ آکسفورڈ میں طلبہ کی اکثریت بھارتی ہونے کے باوجود بھارتی وفد نے ووٹ کا سامنا کرنے سے انکار کیا۔ پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق بھارت کی نام نہاد ’’سکیورٹی پالیسی‘‘ آکسفورڈ یونین میں ممکنہ منطقی سوالات کا وزن نہ اٹھا سکی۔ بھارتی مقررین نے ممکنہ شرمندگی سے بچنے کے لیے پہلے سے طے شدہ مباحثہ خود ہی سبوتژ کر دیا۔ میڈیا پر پاکستان مخالف پراپیگنڈا کرنے والے بھارتی تجزیہ کار جب کھلی بحث کا موقع ملا تو غائب ہو گئے۔ پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق آکسفورڈ یونین میں بھارتی وفد کی غیرحاضری مئی 2025 کے بعد سے جاری سفارتی و بیانیاتی ناکامیوں کی تازہ کڑی ہے۔ پاکستان ہائی کمیشن لندن کا کہنا ہے کہ چرچل نے کہا تھا کہ ’’گفتگو جنگ سے بہتر ہے‘‘، بھارت آج ثابت کر رہا ہے کہ وہ نہ گفتگو کے لیے تیار ہے نہ جواب دہی کے لیے۔ پاکستان ہائی کمشن لندن کے مطابق پاکستان نے دلیل، مکالمے اور قانونی مؤقف سے بحث جیتنے کی تیاری کی جبکہ بھارت نے بحث شروع ہونے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیئے۔