یورپی یونین میں سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق نئی پابندیوں کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
یورپی یونین سوشل میڈیا اور اے آئی کے استعمال پر نئی پابندیوں اور ضابطوں کی تیاری کر رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں سوشل میڈیا، ویڈیو-شیئرنگ پلیٹ فارمز اور اے آئی چیٹ بوٹس تک رسائی کے لیے یورپ بھر میں “کم از کم عمر 16 سال مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس قرارداد کے مطابق، اگر کوئی 13 سے 16 سال کی عمر کے بچے ان پلیٹ فارمز کو استعمال کرنا چاہیں تو اُنہیں ماں/باپ یا سرپرست کی اجازت درکار ہوگی اور 13 سال سے کم عمر کے بچوں کی رسائی مکمل طور پر ممنوع ہوگی۔
اس قانون کے تحت، ایسے اے آئی سسٹمز جنہیں شدید خطرہ شمار کیا جائے گا، اُن پر پابندی یا سخت قواعد ہوں گے۔ یہ ضابطے حقوقِ انسانی، نجی زندگی، میرٹ اور شفافیت کو مقدم رکھتے ہوئے شہریوں کو محفوظ بنانے اور اے آئی کے غلط استعمال کو روکنے کے مقصد سے بنائے گئے ہیں۔
یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ سماجی رابطے اور آن-ڈیمانڈ میڈیا پلیٹ فارمز کا نئے قواعد کے تحت جائزہ اور انہیں مزید ذمہ دار بنانے کی ضرورت ہوگی، خاص طور پر ایسے جن پر اشتہارات اور اے آئی ٹولز استعمال ہوتے ہیں۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور اے ا ئی
پڑھیں:
ہم یورپی یونین میں ترکیہ کی شمولیت کے حامی ہیں، جرمنی
جرمن وزیر خارجہ کے ساتھ اپنی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں حکان فیدان کا کہنا تھا کہ برلن اور انقرہ کے درمیان مثالی تعلقات ہیں۔ ہمارا کسی دوسرے ملک کے ساتھ اتنا قریبی سماجی تعلق نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ آج "برلن" میں جرمنی کے وزیر خارجہ "یوهن وادفول" نے اپنے تُرک ہم منصب "حكان فیدان" سے ملاقات کی۔ اس موقع پر یوھن وادفول نے کہا کہ جرمنی، یورپی یونین کا حصہ بننے کے لئے ترکیہ کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ملاقات میں دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات، یوکرین و مشرق وسطیٰ کی صورت حال، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور یورپی یونین میں ترکیہ کی رکنیت کے عمل پر بات چیت کی۔ دوسری جانب اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں تُرک وزیر خارجہ نے کہا کہ برلن اور انقرہ کے درمیان مثالی تعلقات ہیں۔ ہمارا کسی دوسرے ملک کے ساتھ اتنا قریبی سماجی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یورپی یونین کا حصہ بننے کے لئے طے شدہ شرائط سے کوئی مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہاں ہے کہ اس عمل میں سالوں سے کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی۔ ہم نے اس حوالے سے مذکورہ بالا ملاقات میں ضروری بات چیت کی۔ ہمیں اب بھی توقع ہے کہ یورپی یونین، ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو معمول کے مطابق چلائے گی۔