جی ایس پی پلس سٹیٹس جاری رکھنے پر اتفاق : تجارتی شراکت داری کے عزم کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے یورپی یونین کمشن کے مانیٹرنگ مشن نے ملاقات کی۔ پاکستان اور یورپی یونین نے مضبوط تجارتی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔ مشن کی قیادت سرجیو بلیبریا کر رہے تھے۔ یورپی یونین کے سفیر ریمونڈس کاروبلس بھی شریک ہوئے۔ وزیر تجارت نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ جی ایس پی پلس نے تجارت، روزگار، خواتین بااختیاری اور پائیدار ترقی کو مضبوط کیا۔ پاکستان 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔ پانچویں دو سالہ جائزہ میں پاکستان کی پیش رفت کو تسلیم کیے جانے کی امید ہے۔ وزیر تجارت نے نئے جی ایس پی پلس فریم ورک میں ضرورت سے زائد شرائط نہ لگانے کی درخواست کی۔ یورپی یونین کی جانب سے ایتھنول پر جی ایس پی مراعات واپس لینے پر وزیر تجارت نے اظہار تشویش کیا۔ وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ فیصلے سے کسانوں کی روزی متاثر ہوئی۔ باسمتی چاول کی جی آئی رجسٹریشن کے منصفانہ عمل کی یقین دہانی کی امید ہے۔ جام کمال نے سندھ اجرک، پنک سالٹ اور آم کو بھی جی آئی تحفظ دینے کی سفارش کی۔ ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین نے مستحکم جی ایس پی پلس شراکت داری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جی ایس پی پلس یورپی یونین
پڑھیں:
وزیراعظم 2 روزہ دورے پر بحرین کے دارالحکومت منامہ پہنچ گئے
وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ دورے پر بحرین کے دارالحکومت منامہ پہنچ گئے۔ منامہ ایئرپورٹ پر بحرین کے ولی عہد، بحرینی افواج کے نائب سپریم کمانڈر اور وزیراعظم شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ اور دیگر بحرینی قیادت نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کا پر تپاک استقبال کیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور سینئر افسران بھی وفد میں شامل ہیں۔دورے کے دوران وزیراعظم بحرین کے بادشاہ شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ، ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ، نائب وزیراعظم شیخ خالد بن عبداللہ الخلیفہ سمیت بحرین کی دیگر اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے دورہ بحرین کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان نتائج پر مبنی اور تزویراتی شراکت داری کو فروغ دینا ہے، دورے سے شراکت داری کی نئی راہیں بھی متعین ہوں گی۔ترجمان کا کہنا تھا کہ اس دورے سے روایتی طور پر گرمجوشی اور خوشگوار تعلقات کو تقویت ملے گی جب کہ شراکت داری کی نئی راہیں متعین ہوں گی اور عوام سے عوام کے روابط کو گہرا کیا جائے گا جو باہمی طور پر فائدہ مند تعاون میں حصہ ڈالے گا۔