حکومت متحرک، مستحکم اور جامع کیپٹل مارکیٹ کے قیام کیلیے پْرعزم ہے، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت متحرک، مستحکم اور جامع کیپٹل مارکیٹ کے قیام کے لیے پْرعزم ہے۔ ان کے بقول جاری اسٹرکچرل اصلاحات نے کیپٹل مارکیٹ کی کارکردگی بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔وزیرِ خزانہ کی زیرِ صدارت وزارت خزانہ میں کیپٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ کونسل (سی ایم ڈی سی) کے افتتاحی اجلاس میں پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کو مضبوط اور وسعت دینے سے متعلق روڈ میپ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، سی ڈی سی، این سی سی پی ایل، پاکستان بزنس کونسل اور وزارتِ خزانہ کے نمائندوں نے شرکت کیں۔اجلاس میں کونسل کے ٹرمز آف ریفرنس اور مجموعی حکمتِ عملی پر غور کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی بہترین عملی نمونوں کو اپناتے ہوئے مارکیٹ کو وسیع، گہرا اور متنوع بنانے کے لیے منظم انداز میں پیش رفت ضروری ہے۔شرکاء نے چار اہم شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جن میں ریٹیل اور انسٹی ٹیوشنل سرمایہ کاروں کی شمولیت میں اضافہ، سرمایہ کاروں کی ضرورت کے مطابق متنوع سرمایہ کاری مصنوعات کی تیاری، بینکوں، بروکرز اور میوچل فنڈز جیسے مارکیٹ انٹرمیڈریز کے لیے سہولت کاری میں بہتری، اور سرمایہ کاروں و اجراء کنندگان کے لیے مراعاتی اقدامات شامل تھے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیپٹل مارکیٹ کے لیے
پڑھیں:
دنیا میں عزت بڑھنے کے باوجود سرمایہ کاری نہیں آرہی: مفتاح اسماعیل
کراچی – سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے خبردار کیا ہے کہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ دنیا میں پاکستان کی عزت بڑھنے کے باوجود ملک میں نئی سرمایہ کاری نہیں آرہی۔
جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ متوقع ہے کیونکہ ملک میں معاشی نمو کی رفتار سست ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کے بغیر 6 فیصد معاشی نمو کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ انہوں نے موجودہ ٹیکس سسٹم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم چھوٹے کمانے والوں سے ٹیکس لیتے ہیں، لیکن بڑے زمین دار یا صنعتی مالکان سے نہیں۔
سابق وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستانی صنعت کو ایکسپورٹ کے قابل بنانے کے لیے صرف ٹیکس ریٹ کم کرنا کافی نہیں، بلکہ بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی کم کرنی ہوں گی تاکہ کاروباری ماحول سازگار بنایا جا سکے۔