پیپلزپارٹی کی ضمنی انتخابات میں ناکامی، لمحہ فکریہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
پیپلز پارٹی کے لیے جنوبی پنجاب، سندھ کے بعد کسی حد تک سرائیکی ووٹ کے باعث سیاسی گڑھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ فروری کے انتخابات میں جنوبی پنجاب سے ہی پیپلز پارٹی کو نمایاں کامیابی ملی تھی جب کہ پنجاب کے باقی علاقوں اور لاہور سے بلاول زرداری سمیت اس کے تمام اہم رہنما ہار گئے تھے۔
ضلع راولپنڈی کے گوجر خان سے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف ہی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے جو ایک سال سے بھی کم عرصہ وزیر اعظم پاکستان رہے تھے مگر انھوں نے اپنے علاقے میں نمایاں ترقیاتی کام کرائے تھے جو ان کا پرانا حلقہ انتخاب ہے جس کی وجہ سے انھیں کامیابی ملی تھی۔
وسطی پنجاب سے قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن و دیگر ماضی میں جن حلقوں سے کامیاب ہوا کرتے تھے وہ 2008 کے بعد سے مسلسل ہارتے آ رہے ہیں، کیونکہ ان کے اکثر رہنما پی ٹی آئی میں جا چکے ہیں صرف ندیم افضل چن ہی پی ٹی آئی سے واپس پیپلز پارٹی میں آنے والے اہم رہنما ہیں مگر وہ بھی اپنے حلقے میں پہلے جیسے مقبول نہیں۔
چار سال سے زائد وزیر اعظم رہنے والے ملتان کے سید یوسف رضا گیلانی مذہبی طور پر اہمیت رکھتے ہیں اور انھوں نے اپنے ضلع میں بے شمار ترقیاتی کام کرائے اور ملتان کا حلیہ بدل دیا تھا، اسی وجہ سے گیلانی خاندان کو ضلع میں نمایاں کامیابی ملی تھی جہاں ان کے سیاسی حریف شاہ محمود قریشی تھے جو گیلانی حکومت میں وزیر خارجہ رہے مگر دوبارہ وزیر خارجہ بنائے جانے پر پی پی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں چلے گئے تھے اور بعد میں وزیر خارجہ رہے مگر انھوں نے ملتان پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جو پہلے مسلم لیگ (ن) میں رہے تھے۔
ان کے والد سجاد قریشی (ن) لیگی دور میں گورنر پنجاب بھی رہے تھے اور 2008 میں وہ وزیر اعظم بننا چاہتے تھے مگر آصف زرداری نے شاہ محمود قریشی کے بجائے یوسف گیلانی کو ترجیح دے کر وزیر اعظم مقرر کیا تھا جنھوں نے مسلم لیگ (ن) کو بھی ناراض نہیں ہونے دیا تھا۔ یوسف رضا گیلانی اب سینیٹ کے چیئرمین اور ان کے صاحبزادے قومی و صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں اور مسلم لیگ (ن) نے انھیں جنوبی پنجاب میں اہمیت بھی دے رکھی ہے۔
جنوبی پنجاب سے پی پی نے 2008 میں مخدوم احمد محمود کو گورنر پنجاب بھی مقرر کیا تھا مگر اس بار ضلع راولپنڈی کے سلیم حیدر کو گورنر پنجاب بنایا ہوا ہے جو گورنر تو ہیں مگر پنجاب میں پی پی کی مقبولیت بڑھانے جیسا سیاسی اثر و رسوخ نہیں رکھتے اور آئے دن بلاول بھٹو زرداری کو وزیر اعظم بنوانے کے لیے جدوجہد کے بیانات دیتے رہتے ہیں۔
پیپلز پارٹی وفاق میں صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ جیسے اہم عہدے رکھنے کے باوجود خود کو وفاقی حکومت میں شامل نہیں سمجھتی جب کہ وزیر اعظم پی پی کو وفاقی حکومت میں شمولیت کی دعوت دیتے رہتے ہیں مگر پی پی کو وفاق کے بجائے پنجاب حکومت میں شمولیت میں دلچسپی ہے مگر وزیر اعلیٰ مریم نواز پی پی کو پنجاب میں وزارتیں دینے کو اس لیے تیار نہیں کہ (ن) لیگ کو پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ووٹوں کی وفاق کی طرح ضرورت نہیں کیونکہ پنجاب میں ن لیگ کو واضح اکثریت حاصل ہے اور اس نے کبھی سندھ میں شمولیت کی بات نہیں کی حالانکہ (ن) لیگ سندھ میں برائے نام رہ گئی ہے جہاں اس کا کوئی رکن سندھ اسمبلی تک نہیں صرف چند یوسی چیئرمین ہی (ن) لیگ کے ہیں اور پنجاب میں پیپلز پارٹی اہمیت کی حامل ہے اور سندھ سے مسلم لیگ (ن) کا تقریباً صفایا ہو چکا ہے اور (ن) لیگ کی توجہ صرف پنجاب پر ہے وہ سندھ پر توجہ ہی نہیں دے رہی۔
جنوبی پنجاب پر سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے خصوصی توجہ دی تھی اور یوسف رضا گیلانی کا بھی جنوبی پنجاب میں نمایاں سیاسی اثر و رسوخ ہے مگر صدر زرداری کی کوشش اور لاہور زیادہ آنے کا بھی پیپلز پارٹی کو کوئی خاص سیاسی فائدہ نہیں ہوا۔
بلاول بھٹو کی مقبولیت سینٹرل پنجاب سے زیادہ جنوبی میں ہے جہاں سے پی پی امیدوار زیادہ منتخب ہوئے۔ پنجاب حکومت میں پی پی کو شامل نہیں کیا جا رہا اور وفاقی حکومت میں وہ وزارتیں نہیں لے رہی۔ صدر مملکت اور چیئرمین سینیٹ کے عہدے انتظامی نہیں آئینی ہیں۔ پنجاب سے پی پی رہنماؤں کو اگر وفاقی عہدے دلا دیے جائیں تو انھیں پنجاب کی سیاست میں پیپلز پارٹی کے لیے کام کرنے کا موقعہ میسر آ سکتا ہے مگر پی پی پنجاب میں وزارتیں لینا چاہتی ہے اور نہ ملنے پر گورنر پنجاب اور پی پی رہنما پنجاب حکومت اور وزیر اعلیٰ پر تنقید کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ پنجاب کے اقتدار میں حصہ نہ ملنا ہے۔
(ن) لیگ اور پی پی کے درمیان پنجاب کے سلسلے میں ہی اختلافات ہیں اور پی پی شکایتوں پر گورنر ہاؤس لاہور میں دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں میں مذاکرات بھی ہوئے مگر کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا اور یہ مسئلہ اٹکا ہوا ہے۔ پنجاب حکومت کے بعض اقدامات اور بیانات پر گزشتہ دنوں سندھ سے تنقید ہوئی تھی مگر صدر اور وزیر اعظم نے مداخلت کر کے دونوں پارٹیوں کے وزیروں اور رہنماؤں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف جاری بیان بازی بند کرائی تھی۔
پیپلز پارٹی پنجاب میں خود کو (ن) لیگ کا اصل حریف سمجھتی ہے مگر ایسا ہے نہیں۔ پیپلز پارٹی پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد پنجاب کے عوام کو اپنی طرف واپس لانے میں ناکام رہی ہے اور صدر مملکت کی کوشش سے بھی بڑے نام پی پی کی طرف نہیں لوٹ رہے جس سے پنجاب میں پی پی عوام میں بھی مقبول نہیں ہو رہی۔ پیپلز پارٹی کے لیے یہی لمحہ فکریہ ہے کہ وہ پنجاب میں کس طرح مقبولیت حاصل کرے اور عوام اس کی طرف پہلے کی طرح راغب ہوں مگر پی پی کو راستہ نہیں مل رہا۔ سندھ حکومت اپنی بہترین کارکردگی دکھا کر پنجاب کو متاثر کر سکتی ہے مگر پی پی اس طرف توجہ ہی نہیں دے رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کے پنجاب میں پی پنجاب حکومت گورنر پنجاب حکومت میں پی ٹی آئی مگر پی پی پنجاب کے مسلم لیگ پی پی کو ہیں اور ہے اور ہے مگر کے لیے
پڑھیں:
جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
فیصل جمیل :گلگت بلتستان انتخابات 2026 کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں،انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہوگی۔
الیکشن سے قبل ہی حاجی اکبر تابان امیدوار پاکستان مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی، مہا جرین 1971 نے مسلم ن کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور خاتون اول آصفہ بھٹو آج گلگت اور ہنزہ کا دورہ کریں گے، دونوں رہنما ہنزہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے جبکہ بلاول بھٹو زرداری کی گلگت میں پارٹی ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سکردو اور دیگر اضلاع میں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف رہیں گے، وہ پارٹی رہنماؤں کے انتخابی دفاتر کا دورہ کریں گے اور کارکنان سے بھی خطاب کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق، عابد شیر علی، مرتضیٰ جاوید عباسی اور عابد رضا کوٹلہ مختلف مقامات پر جلسوں سے خطاب کریں گے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ن لیگی رہنما آج مجموعی طور پر چار مقامات پر عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ادھر وفاقی وزیر انجنئیر امیر مقام بھی گلگت میں موجود ہیں جہاں ان کی مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں شیڈول ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے ووٹرز کو متحرک کرنے کی کوششیں آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں ۔